اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر اور یوٹیوبرعادل راجہ کو واپس پاکستان لانے کے لیے برطانیہ کے ساتھ کیس ٹو کیس بنیاد پر معاملہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت برطانوی حکام کو ان کے خلاف درج مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کی مکمل تفصیلات فراہم کر دی گئی ہیں، اس پیش رفت کو حکومت کی جانب سے مفرور اور مطلوب افراد کی واپسی کے لیے ایک اہم اور فیصلہ کن قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق شہزاد اکبر سے متعلق تمام مقدمات، عدالتی فیصلے اور جاری قانونی کارروائیوں کا جامع ریکارڈ برطانوی حکام کو ارسال کیا گیا ہے۔ یہ دستاویزات وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کے حوالے کیں، جس میں شہزاد اکبر کے خلاف اسلام آباد میں درج تین مقدمات کی تفصیلات شامل ہیں۔ ان میں سے دو مقدمات تھانہ سیکرٹریٹ جبکہ ایک مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دستاویزات میں نیب عدالت کی جانب سے شہزاد اکبر کو سنائی گئی سزا کی مکمل تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں جبکہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے تحت درج مقدمات کا ریکارڈ بھی برطانوی حکام کو فراہم کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی عدالت کی جانب سے شہزاد اکبر کو اشتہاری قرار دیے جانے سے متعلق قانونی دستاویزات بھی فائل کا حصہ ہیں۔اسی کیس کے تناظر میں حکومت پاکستان نے برطانیہ میں مقیم یوٹیوبر عادل راجا کے خلاف بھی تفصیلی معلومات اور حوالگی سے متعلق قانونی کاغذات برطانوی حکام کے حوالے کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں افراد کو پاکستان میں مطلوب قرار دیا جا چکا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔یاد رہے کہ چند روز قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے ملاقات کی تھی، جس کے دوران شہزاد اکبر اور عادل راجا کی حوالگی سے متعلق مکمل قانونی دستاویزات انہیں فراہم کی گئیں۔ اس موقع پر محسن نقوی نے واضح کیا تھا کہ دونوں افراد پاکستان میں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے مطلوب ہیں اور ان کی فوری حوالگی ناگزیر ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ان افراد کی واپسی کے لیے برطانیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے گا۔
سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر اور عادل راجا کے گرد گھیرا تنگ،پاکستان نے برطانیہ سے براہِ راست قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا
92