اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی لیڈر کے سیاسی ڈی این اے میں مذاکرات کی گنجائش ہی موجود نہیں، تاہم اس کے باوجود وہ دعا گو ہیں کہ ملک کے مفاد میں کوئی مثبت اور نتیجہ خیز ڈائیلاگ ممکن ہو سکے۔
ایگزو نیوز کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی لیڈر نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں ذاتی مفاد کو ہی اولین اور آخری ترجیح بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہمیشہ ”کچھ لو اور کچھ دو” کی بنیاد پر ہوتے ہیں مگر بانی پی ٹی آئی کسی بھی اصولی سیاست کے قائل نہیں۔وزیر دفاع نے سخت الفاظ میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی ایک مفاد پرست شخص ہیں جو ذاتی فائدے کے لیے اصول، اقدار اور حتیٰ کہ رشتوں کو بھی پامال کرنے سے گریز نہیں کرتے، ایسے طرزِ فکر کے حامل شخص سے سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کی توقع رکھنا خود فریبی کے مترادف ہے۔خواجہ آصف کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت ایک بار پھر بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اور حکومت کی جانب سے سیاسی مکالمے کی بات کی جا رہی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا تھا کہ حکومت پاکستان ملکی ترقی، خوشحالی اور سیاسی ہم آہنگی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ پرامن اور بامقصد ڈائیلاگ کے اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر بھی متعدد بار تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی پیشکش کر چکے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود بات چیت کا دروازہ بند نہیں کیا جا سکتا، تاہم انہوں نے یہ انتباہ بھی کیا کہ سیاسی ڈائیلاگ کی آڑ میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کسی بھی مذموم کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔سیاسی مبصرین کے مطابق ایک جانب حکومت کی طرف سے مفاہمت اور ڈائیلاگ کا پیغام دیا جا رہا ہے تو دوسری جانب حکومتی وزرا کے سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سیاسی خلیج بدستور گہری ہے۔ ایسے میں آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ آیا سیاسی قوتیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں کسی مشترکہ راستے پر متفق ہو پاتی ہیں یا نہیں۔
اصولوں سے عاری سیاست،ڈائیلاگ کی امید مگر اعتبار نہیں،خواجہ آصف نے پی ٹی آئی قیادت کو کھری کھری سنا دیں
1