اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور ریاست کا موقف بالکل واضح ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کی کوئی گنجائش موجود نہیں،انہیں قانون کے مطابق ہتھیار ڈالنا ہوں گے یا انجام کا سامنا کرنا ہو گا،شدت پسند گروہوں سے کوئی بات نہیں ہو گی۔
ایگزو نیوز کے مطابق سیکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشت گردی اقدامات پر تفصیلی پریس بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ رواں سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے،جو دہشت گردی کے خلاف ریاستی حکمت عملی کی شدت اور تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں کے دوران 2 ہزار 84 مصدقہ دہشت گرد ہلاک کیے گئے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 194 آپریشنز کیے گئے اور یومیہ تقریباً 10 دہشت گرد مارے گئے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق رواں سال اب تک دہشت گردی کے 3 ہزار 145 واقعات رپورٹ ہوئے،جن میں مجموعی طور پر 819 افراد شہید ہوئے۔شہدا میں 303 فوجی جوان،194 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور 322 عام شہری شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سال 2026 کے دوران اب تک 28 بم دھماکوں کے واقعات بھی پیش آئے۔انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ 2023 میں پہلی مرتبہ شہدا کی تعداد دہشت گردوں کی ہلاکتوں سے زیادہ رہی تاہم اس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے اپنی حکمت عملی کو مزید موثر بنایا،جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں اور اب صورتحال میں واضح بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملک بھر میں بڑے پیمانے پر انسداد دہشت گردی آپریشنز کیے گئے۔بلوچستان میں اب تک 31 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں 7 ہزار 177 آپریشنز انجام دیے گئے۔انہوں نے کہا کہ بعض عناصر کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں تاہم حقائق اس کے برعکس ہیں اور سیکیورٹی فورسز مسلسل کامیاب کارروائیاں کر رہی ہیں۔انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ حالیہ بم دھماکوں میں افغان باشندوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں،خصوصاً ٹانک اور کراچی میں پیش آنے والے واقعات میں غیر ملکی عناصر کے کردار کی نشاندہی ہوئی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دوٹوک انداز میں کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی اور ریاست پاکستان امن و استحکام کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے لیے واحد راستہ ہتھیار ڈالنا اور قانون کے سامنے جوابدہ ہونا ہے،بصورت دیگر سیکیورٹی فورسز پوری قوت کے ساتھ ان کا مقابلہ جاری رکھیں گی۔