اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیاسی منظرنامے اور حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی بازگشت پررکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے تفصیلی تبصرہ کرتے ہوئے پارٹی کی موجودہ صورتحال اور اندرونی چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی ایک تاریخی اور سنگین المیہ کا سامنا کر رہی ہے، جہاں پارٹی کے اہم فیصلے کئی ماہ سے زیر التوا ہیں اور کوئی بھی فیصلہ پارٹی کی اجتماعی دانش اور مشاورت کے بغیر نہیں کیا گیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق شیر افضل مروت نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مشترکہ مشورے اور کلیکٹو وزڈم کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے پارٹی میں کوئی واضح اور متحد موقف سامنے نہیں آ رہا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مذاکرات کی تمام گفتگو صرف میڈیا اور کیمروں کے سامنے ہوتی ہے، جبکہ اصل میں کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ مذاکرات کا اختیار ایک شخص، محمود خان اچکزئی کے پاس ہے جبکہ حقیقت میں یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص کے ذریعے پوری پارٹی کا مینڈیٹ طے ہو سکے۔ شیر افضل مروت نے نشاندہی کی کہ گزشتہ ایک سال میں پی ٹی آئی کے سولہ اراکین نااہل ہو چکے ہیں اور مزید کیسز زیر التوا ہیں، جس سے پارٹی کی سیاسی پوزیشن مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کے لیے پی ٹی آئی کوئی خطرہ نہیںاور اس لیے مذاکرات میں حکومت کی دلچسپی یا ضرورت موجود نہیں،دوٹوک موقف ڈی جی آئی ایس پی آر کی زبان سے آ جاتا ہے اوروہی موقف حکومت کا بھی ہے،حکومت کو مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی ضرورت ہے کیونکہ پی ٹی آئی ان کے لیے کوئی خطرہ نہیں،لاہور اور کراچی پھرنے سے کسی حکومت نے نہیں ڈرنا،جب تک تحریک انصاف اپنی صفوں میں اتحاد یکجہتی اور وحدت پیدا نہیں کرتی اور جب تک قیادت اکٹھی ہو کر قوم کے سامنے بیٹھ کے قرآن پر حلف نہ دے دے کہ ہم نے احتجاجی تحریک چلانی اور لائحہ عمل دینا ہے کیونکہ اب تک تو پارٹی کی طرف سے کوئی لائحہ عمل نظر نہیں آیا اور نہ ہی کوئی موثر حکمت عملی سامنے آئی ہے، صرف وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔شیر افضل مروت نے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ کمیٹی میں شامل لوگ خان کے قریبی دوست ہیں جو برف پگھلانے کی کوشش کر رہے ہیںمگر پارٹی نے ان کی تجاویز کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ کم از کم پارٹی کے گڈ آفس کو کسی حل کی جانب بڑھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ سیاسی بحران کا کوئی عملی حل نکل سکے۔
کسی سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے،فیصلے میڈیا تک محدود،شیر افضل مروت نے عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کا حقیقی المیہ کھول کر رکھ دیا
6