نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک جملے نے عالمی سیاست کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں”مجھے کوئی نہیں روک سکتا، جو چاہوں کروں گا“ یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ طاقت کے اس تصور کا اعلان ہے جس نے بین الاقوامی قوانین،ریاستی خود مختاری اور عالمی امن کے دعووں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے،ایک ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی کشیدگی،علاقائی تنازعات اور طاقت کے توازن کی نازک لکیر پر کھڑی ہے،امریکی صدر کے اس جارحانہ موقف نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا عالمی فیصلے اب اداروں کے بجائے ایک فرد کی سوچ سے طے ہوں گے؟وینزویلا میں ہونے والا خونریز آپریشن، سینیٹ کی اندرونی بغاوت اور صدر کی کھلی دھمکیاں اس خدشے کو مزید گہرا کر رہی ہیں کہ دنیا ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک حالیہ انٹرویو میں دیے گئے جارحانہ اور غیر معمولی بیانات نے عالمی سطح پر تشویش کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ بطور کمانڈر انچیف انہیں یہ مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک پر فوجی حملے کا حکم دے سکیں اور اس فیصلے کو روکنے والا کوئی نہیں۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ وہ صرف اپنی طے کردہ اخلاقی اقدار اور ذاتی سوچ کی بنیاد پر کرتے ہیں اور اس ضمن میں وہ کسی دباو یا مشورے کے پابند نہیں،وہ کسی اور کی پروا کیے بغیر وہی کریں گے جو انہیں درست محسوس ہو۔یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سینیٹ نے ایک اہم قرارداد کو بحث کے لیے منظور کیا،جس کے تحت صدر ٹرمپ کو وینزویلا میں مزید فوجی اقدامات کے لیے کانگریس سے پیشگی اجازت لینا لازم قرار دیا گیا ہے۔قرارداد کے حق میں 52 جبکہ مخالفت میں 47 ووٹ پڑے،اس پیش رفت پر صدر ٹرمپ نے اپنی ہی جماعت ریپبلکن کے ان سینیٹرز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے قرارداد کی حمایت کی اور انہیں سیاسی مستقبل کے حوالے سے سخت نتائج کی دھمکی بھی دی۔بعد ازاں صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف مجوزہ دوسرے مرحلے کی فوجی کارروائی منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا تاہم اس سے قبل ہونے والے آپریشن کے اثرات بدستور عالمی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ 3 جنوری کو امریکی فورسز نے وینزویلا میں صدارتی محل پر کارروائی کرتے ہوئے ایک آپریشن کیا،جس کے نتیجے میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے پہلے ہیلی کاپٹر اور پھر بحری جہاز کے ذریعے امریکا منتقل کیا گیا۔صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک کی ایک عدالت میں منیشیات سمگلنگ سمیت سنگین الزامات کے تحت پیش کیا گیا،جہاں ان پر فردِ جرم عائد کی گئی تاہم دونوں نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ یہ قانونی گرفتاری نہیں بلکہ اغوا ہے اور وہ ایک خودمختار ریاست کے منتخب صدر ہیں۔اس آپریشن کے دوران جھڑپوں میں مجموعی طور پر 100 افراد ہلاک ہوئے،جن میں وینزویلا اور کیوبا کے 55 فوجی اہلکار بھی شامل تھے۔واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر یہ بحث شدت اختیار کر گئی کہ امریکا نے کس قانونی جواز کے تحت وینزویلا پر حملہ کیا اور ایک خودمختار ملک کے صدر اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لیا۔ عالمی قوانین،ریاستی خود مختاری اور طاقت کے استعمال سے متعلق سوالات ایک بار پھر عالمی ضمیر کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں۔