کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)معروف تجزیہ کار اور سینئر صحافی حیدر نقوی نے کہا ہے کہ اس وقت ایک منظم اور غلط پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو یہ آفر دی گئی ہے کہ اگر وہ عمران خان کے خلاف گواہی دیں تو ان کی سزا معاف کر دی جائے گی جبکہ اس دعوے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق حیدر نقوی کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ چھ سے سات ماہ قبل ہی ایسے نا قابلِ تردید شواہد فیض حمید کے ٹرائل سے متعلق جیوری کے سامنے آ چکے ہیں جن میں نو مئی کے واقعات میں عمران خان اور ان کے دیگر ساتھیوں کی شمولیت ثابت ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ فیض حمید ان شواہد کی فراہمی پہلے ہی کر چکے ہیں،اس لیے کسی نئی ڈیل یا وعدہ معافی کی باتیں محض گمراہ کن پروپیگنڈہ ہیں۔انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ نو مئی کے واقعات سے چند روز قبل لاہور میں ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی تھی جس میں پورے منصوبے اور خدوخال طے کیے گئے،اس میٹنگ میں شریک ہر فرد کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا،چاہے وہ آج متعلقہ سیاسی جماعت چھوڑ چکا ہو یا خود کو لا تعلق ظاہر کر رہا ہو۔
بین الاقوامی امور پر بات کرتے ہوئے حیدر نقوی نے کہا کہ جس طرح دوحہ میں عالمی فٹبال سٹار لیونل میسی کی سکیورٹی کی ذمہ داری پاکستان فوج کو دی گئی تھی، اگر اسی طرح کلکتہ میں بھی ذمہ داری دی جاتی تو آج بھارت کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کو واقعی بہتر بنانا ہے تو سب سے پہلے عدالتی نظام میں موجود کرپٹ ججز کا احتساب ناگزیر ہے بصورت دیگر یہی نظام بار بار ایسے کردار پیدا کرتا رہے گا جو ذاتی خواہشات اور اقتدار کی جنگ میں ایک چلتی ہوئی معیشت کو تباہ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔حیدر نقوی نے واضح کیا کہ آنے والے دنوں میں حقائق سب کے سامنے آ جائیں گے اور نو مئی کے واقعات سے متعلق بہت سے پردہ نشین راز بے نقاب ہوں گے۔