نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکہ نے اپنی پالیسی مزید واضح اور سخت کرتے ہوئے یہ عندیہ دے دیا ہے کہ ایران پر دباو برقرار رکھا جائے گا اور کسی بھی جنگ بندی کے لیے فی الحال کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔ ڈونلٹ ٹرمپ انتظامیہ کے اس دو ٹوک موقف نے صورتحال کو ایک بار پھر غیر یقینی موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں سفارتکاری اور طاقت کے توازن کے درمیان فیصلہ کن مرحلہ قریب دکھائی دے رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابقمیڈیا بریفنگ کے دوران وائٹ ہاوس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے واضح کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی یا معاہدے کے لیے کوئی حتمی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی اور اس حوالے سے گردش کرنے والی تین سے پانچ روز کی مہلت کی خبریں بے بنیاد ہیں۔جمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کو کسی خاص مدت کا پابند نہیں کر رہے بلکہ وقت اور حکمت عملی کا تعین خود بطور کمانڈر ان چیف کریں گے،مریکہ ایران کو ایک متفقہ اور قابلِ قبول تجویز پیش کرنے کے لیے محدود وقت دے رہا ہے،جس دوران عارضی جنگ بندی برقرار رہ سکتی ہے تاہم حتمی فیصلے کا انحصار ایران کے ردعمل پر ہوگا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ امریکہ اس وقت ایران کے جواب کا منتظر ہے اور صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ جنگ بندی کی کسی بھی ممکنہ توسیع پر ایران کی جانب سے واضح اور متفقہ موقف سامنے آئے۔ان کے مطابق واشنگٹن کی حکمت عملی دباو اور سفارتکاری کو بیک وقت آگے بڑھانے پر مبنی ہے تاکہ ایران کو سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ کیا جا سکے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی قیادت آبنائے ہرمز میں جاری ناکہ بندی سے مطمئن ہے اور ایران پر عائد معاشی دباو ہی وہ بنیادی عنصر ہے جس کے باعث تہران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوا ہے۔ترجمان کے مطابق امریکہ ایران سے اپنے نکات پر واضح اور متحد جواب کا منتظر ہے۔وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ معاشی ٹائم لائن اور دباو کی شدت کا تعین بھی امریکی صدر خود کریں گے جبکہ ایران کے لیے افزودہ یورینیئم سے متعلق امریکی مطالبات بدستور برقرار ہیں۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ایران کی نجی سطح پر کی جانے والی بات چیت اور اس کے عوامی بیانات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے،جو مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔واضح رہے کہ امریکی موقف کی اس وضاحت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ واشنگٹن کسی جلد بازی میں نہیں بلکہ مرحلہ وار دباو اور سفارتکاری کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران کی جانب سے متوقع ردعمل آئندہ صورتحال کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔