اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثناءاللہ نے صوبوں سے متعلق جاری قیاس آرائیوں کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے فی الحال نئے صوبوں کے حوالے سے کوئی قرارداد،بل یا آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاری نہیں کی جا رہی۔
ایگزو نیوز کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی میں صوبوں کے حوالے سے ہونے والی تقاریر کو قبل از وقت قرار دیا جاسکتا ہے،کیونکہ کسی بھی نئے صوبے یا صوبوں سے متعلق معاملہ پارلیمنٹ میں باقاعدہ قرارداد یا قانون سازی کی صورت میں ہی سامنے آسکتا ہے،اس وقت پارلیمنٹ میں صوبوں کے حوالے سے کوئی قرارداد زیرِ غور نہیں۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت سے مشاورت کے بغیر صوبوں سے متعلق کوئی قرارداد لے آئے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر یہ کس نے کہا ہے کہ صوبوں کے بارے میں کوئی بل پارلیمنٹ میں پیش ہونے جارہا ہے؟حکومت کی جانب سے ایسا کوئی اقدام زیرِ تیاری نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت کو کسی قرارداد، بل یا آئینی ترمیم کی ضرورت ہو تو معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لایا جائے گا اور اس کے بعد ہی اسے پارلیمانی عمل کا حصہ بنایا جاسکتا ہے،موجودہ صورتحال میں حکومت کی طرف سے صوبوں کے حوالے سے ایسی کوئی تیاری نہیں ہورہی جبکہ کسی دوسرے فورم پر کوئی تجویز تیار کی جارہی ہو تو اس بارے میں انہیں علم نہیں۔
وزیراعظم کے مشیر نے سندھ اسمبلی کی جانب سے ماضی میں منظور کی جانے والی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے معاملے پر اس سے قبل بھی دو تین مرتبہ قراردادیں منظور کی جاچکی ہیں تاہم ان قراردادوں کی موجودگی کا یہ مطلب نہیں کہ وفاقی حکومت فوری طور پر کوئی قانون سازی یا آئینی ترمیم کرنے جا رہی ہے۔رانا ثناءاللہ نے سندھ کے وزیراعلیٰ کی جانب سے قومی اسمبلی کے حوالے سے دیے گئے بیان پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انداز ایسا تھا جیسے قومی اسمبلی میں صوبوں سے متعلق کوئی قرارداد پہلے ہی موجود ہو،حالانکہ ایسی کوئی قرارداد پارلیمنٹ میں پیش نہیں کی گئی۔
محسن نقوی اور صدر آصف علی زرداری کی ملاقات سے متعلق سوال پر رانا ثناءاللہ نے کہا کہ محسن نقوی کی صدر سے ملاقات کوئی غیر معمولی بات نہیں،وہ ماضی میں بھی آصف علی زرداری سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں،اس لیے ایسی ملاقات پر حکومت کی جانب سے اعتراض کی کوئی وجہ نہیں۔انہوں نے صدر آصف علی زرداری کے بیرون ملک دورے سے متعلق قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر ناراض ہوکر بیرون ملک نہیں گئے اور نہ ہی محسن نقوی انہیں منانے کے لیے گئے تھے،صدر کے ساتھ ان کی فیملی بھی موجود تھی جبکہ محسن نقوی وطن واپس آچکے ہیں اور وزیراعظم ہاوس میں ان سے ملاقات بھی ہوئی ہے۔رانا ثناءاللہ نے مزید کہا کہ صوبوں سے متعلق کسی بھی بل، قرارداد یا آئینی ترمیم کو وزیراعظم کے علم میں لائے بغیر منظور نہیں کیا جاسکتا،اگر کسی دوسرے مقام پر کوئی تجویز زیرِ غور بھی ہو تو بالآخر اسے حکومت اور پارلیمنٹ کے سامنے ہی آنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی نے بھی آج تک یہ نہیں کہا کہ صوبوں سے متعلق کوئی نیا اقدام یا قانون سازی پارلیمنٹ میں لائی جارہی ہے،اس لیے اس حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کو حتمی حکومتی پالیسی سمجھنا درست نہیں ہو گا۔وزیراعظم کے مشیر نے تاہم اس امر کی نشاندہی کی کہ عوامی سطح پر یہ مطالبہ ضرور موجود ہے کہ وفاق سے صوبوں کو فنڈز کی منتقلی کے جس فارمولے کے تحت رقم فراہم کی جاتی ہے،اسی طرز پر وسائل یونین کونسل کی سطح تک بھی پہنچنے چاہئیں تاکہ ترقیاتی وسائل نچلی سطح تک منتقل ہوسکیں۔رانا ثناءاللہ کے بیان کے بعد صوبوں کی تشکیل اور اختیارات سے متعلق حالیہ سیاسی بحث کی شدت میں کمی آنے کا امکان ہے تاہم سندھ اسمبلی میں ہونے والی تقاریر اور قراردادوں کے باعث یہ معاملہ بدستور سیاسی و پارلیمانی حلقوں میں زیرِ بحث رہے گا۔