اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)نیپال اور چین کے خود مختار علاقے تبت کی سرحد پر گلیشیئر کے اچانک انہدام کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، قدرتی آفت کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 790 سے تجاوز کر گئی جبکہ 3 ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شدید دشواریوں کے باوجود جاری ہیں اور حکام لاپتا افراد کی تلاش کے ساتھ ساتھ ناقابل شناخت لاشوں کی شناخت کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق بدھ کے روز گلیشیئر کے اچانک ٹوٹنے کے بعد برف،چٹانوں،کیچڑ اور ملبے پر مشتمل ایک انتہائی تیز رفتار سیلابی ریلہ پہاڑی وادیوں اور دریاوں میں داخل ہوا،جس نے راستے میں آنے والی عمارتوں،پلوں،سڑکوں،بجلی کے نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔اچانک آنے والے اس ریلے نے متعدد آبادیوں کو متاثر کیا اور سیکڑوں افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔نیپالی حکام کے مطابق ملک میں 745 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 2 ہزار 498 افراد کے بارے میں تاحال کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔ریسکیو ٹیمیں اب تک 7 ہزار 500 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکی ہیں تاہم مسلسل بارش،بلند پہاڑی علاقوں،دریاوں میں پانی کی سطح بڑھنے اور سڑکوں و مواصلاتی نظام کو پہنچنے والے نقصان کے باعث امدادی سرگرمیوں کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب چین کے علاقے گیارونگ کاونٹی میں بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 16 افراد ہلاک اور 546 لاپتا ہیں۔چینی حکام کے مطابق لاپتا افراد میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔مجموعی طور پر 23 ممالک کے 261 شہریوں کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی گئی ہے،جن میں نیپال،بھارت،امریکا اور برطانیہ کے شہری شامل ہیں۔ریسکیو حکام کو خدشہ ہے کہ نیپال میں سیلاب سے متاثر ہونے والے پن بجلی گھروں کی سرنگوں میں بڑی تعداد میں افراد پھنسے ہوسکتے ہیں۔اسی وجہ سے امدادی ٹیموں کی توجہ ان زیر زمین مقامات تک رسائی اور ممکنہ طور پر زندہ افراد کو نکالنے پر مرکوز ہے۔نیپالی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ملک کو بین الاقوامی سطح پر خصوصی تکنیکی معاونت درکار ہے۔حکام کے مطابق سرنگوں میں ریسکیو آپریشن،ڈی این اے ٹیسٹنگ،لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کولڈ سٹوریج اور ناقابل شناخت میتوں کی فرانزک شناخت جیسے شعبوں میں بیرونی مدد ضروری ہے۔بھارتی اور چینی ماہرین بھی امدادی سرگرمیوں میں معاونت کر رہے ہیں۔قدرتی آفت کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ایسی لاشیں بھی ملی ہیں جن کی شناخت فوری طور پر ممکن نہیں۔
نیپال کے ضلع چتوان میں راسووا سے دریاوں کے ذریعے بہہ کر آنے والی متعدد لاشیں خراب حالت میں ملنے کے بعد حکام نے ان کی اجتماعی تدفین شروع کردی ہے۔حکام کے مطابق لاشوں کی تدفین سے قبل ان کی تصاویر اور ڈی این اے نمونے محفوظ کیے جا رہے ہیں جبکہ دستیاب جسمانی علامات اور دیگر معلومات بھی ریکارڈ کی جارہی ہیں تاکہ مستقبل میں متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی شناخت کرسکیں۔بعض لاشیں اس قدر مسخ ہوچکی ہیں کہ ان کی شناخت روایتی طریقوں سے ممکن نہیں رہی۔ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں میں موسم سب سے بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔شدید بارش اور دریاوں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث بعض علاقوں میں امدادی سرگرمیاں عارضی طور پر روکنا پڑیں۔سرحدی علاقے میں بننے والی ایک جھیل سے مزید سیلاب کا خطرہ بھی موجود رہا تاہم حکام کے مطابق جھیل کا بیشتر پانی خارج کیا جاچکا ہے۔
چینی حکام نے متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر امدادی وسائل متحرک کیے ہیں۔2 ہزار سے زائد امدادی کارکنوں کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے جبکہ امدادی سرگرمیوں کے لیے کروڑوں یوآن مختص کیے گئے ہیں۔متاثرہ علاقوں تک ضروری سامان پہنچانے کے لیے فضائی راستے استعمال کیے جا رہے ہیں اور لاپتا افراد کی تلاش کے لیے جدید آلات سے بھی مدد لی جارہی ہے۔چینی حکام اور ماہرین نے اس قدرتی آفت کو گلیشیئرز میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام اور عالمی حدت کے ممکنہ اثرات سے بھی جوڑا ہے۔ماہرین کے مطابق پہاڑی علاقوں میں گلیشیئر کے اچانک انہدام کے بعد سیلابی ریلہ انتہائی مختصر وقت میں سرحدی علاقوں تک پہنچا، جس نے مقامی آبادی کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔
نیپال کی حکومت نے تباہی کی شدت کے پیش نظر عالمی برادری سے مزید تکنیکی اور مالی معاونت کی اپیل کی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ فوری ترجیح لاپتا افراد کی تلاش، زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی،متاثرہ آبادیوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی اور جاں بحق افراد کی شناخت و تدفین ہے جبکہ تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا مرحلہ اس کے بعد شروع کیا جائے گا۔قدرتی آفت کے کئی روز گزرنے کے باوجود سینکڑوں خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں ہسپتالوں،امدادی مراکز اور مردہ خانوں کے چکر کاٹ رہے ہیں جبکہ دشوار گزار پہاڑی جغرافیہ اور مسلسل خراب موسم نے تلاش اور امدادی کارروائیوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔