کھٹمنڈو(ایگزو نیوز ڈیسک)نیپال میں اچانک آنے والے شدید سیلابی ریلوں اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے،جہاں مختلف اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 270 تک پہنچ گئی ہے جبکہ سیکڑوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیموں کی جانب سے تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم دشوار گزار جغرافیائی حالات اور متاثرہ انفرااسٹرکچر کے باعث امدادی کارروائیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق نیپال کے ضلع راسووا میں اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے متعدد علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،جس کے نتیجے میں جانی نقصان کے ساتھ گھروں،سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کو بھی نقصان پہنچا۔مقامی حکام اور امدادی ادارے لاپتا افراد کی تلاش کے لیے متاثرہ علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔نیپالی سیاحتی حکام کے مطابق لاپتا افراد میں بڑی تعداد غیرملکی سیاحوں کی بھی شامل ہے۔دستیاب معلومات کے مطابق لاپتا غیرملکیوں میں بھارتی،امریکی، آسٹریلوی،برطانوی،کینیڈین،ملائیشین اور یوکرینی شہری شامل ہیں جبکہ جنوبی کوریا،جنوبی افریقہ،پرتگال اور نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کے بارے میں بھی تاحال معلومات نہیں مل سکیں۔
حکام کے مطابق سیلابی ریلوں کے بعد کئی علاقوں میں مواصلاتی رابطے متاثر ہوئے ہیں،جس کے باعث لاپتا افراد اور ان کے اہل خانہ سے متعلق مکمل معلومات جمع کرنے میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔امدادی کارکن متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔دوسری جانب چینی سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ سرحدی علاقے میں مٹی کے تودے گرنے کے باعث بھی بڑے پیمانے پر لوگ لاپتا ہوئے ہیں۔چینی میڈیا کے مطابق تبت کے گیرونگ علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کے بعد 558 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں،جن میں 260 غیرملکی شہری بھی شامل ہیں جبکہ مختلف حادثات میں تین افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔چینی سرکاری میڈیا کے مطابق شدید بارش،سیلاب اور مٹی کے تودوں نے سرحدی علاقے میں بنیادی ڈھانچے کو شدید متاثر کیا ہے۔متعدد مکانات،سڑکیں اور بجلی سے متعلق منصوبے نقصان کا شکار ہوئے ہیں،جس کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
امدادی اداروں کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔حکام کو خدشہ ہے کہ دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں پھنسے افراد تک رسائی دشوار ہونے کے باعث جانی نقصان اور لاپتا افراد کی تعداد سے متعلق حتمی تصویر سامنے آنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں پیش آنے والی ان قدرتی آفات نے خطے میں شدید موسمی حالات سے پیدا ہونے والے خطرات کو بھی نمایاں کردیا ہے۔سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث جہاں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں،وہیں مواصلاتی نظام اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان نے امدادی سرگرمیوں کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے اور خطرناک وادیوں،ندی نالوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے ممکنہ مقامات سے دور رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔لاپتا افراد کی تلاش کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی ہلاکتوں اور نقصانات کی اصل شدت واضح ہونے کی توقع ہے۔