اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سستی اور ماحول دوست بجلی کی پیداوار کے لیے قائم کیا جانے والا نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ طویل بندش کے باعث اب ایک ایسے بحران سے دوچار ہے جس نے منصوبے کی لاگت، کارکردگی اور مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ 969 میگاواٹ پیداواری صلاحیت رکھنے والا یہ اہم پن بجلی منصوبہ 2024 سے بجلی کی پیداوار سے محروم ہے جبکہ اب اس کی بحالی میں مزید دو سال لگنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے، جس کے بعد منصوبے سے دوبارہ بجلی کی پیداوار 2028 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
وزارتِ آبی وسائل کے ذرائع کے مطابق نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی مرمت اور بحالی کا کام طویل نوعیت کا ہے اور منصوبے کو مکمل طور پر دوبارہ فعال کرنے میں مزید تقریباً دو سال درکار ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مرمتی کام مقررہ رفتار کے مطابق جاری رہا تو منصوبے سے 2028 میں دوبارہ بجلی کی پیداوار شروع ہونے کا امکان ہے۔نیلم جہلم منصوبے کی موجودہ صورتحال نے اس لیے بھی تشویش پیدا کردی ہے کہ یہ منصوبہ طویل عرصے اور اربوں روپے کی لاگت کے بعد مکمل ہوا تھا لیکن بجلی کی مسلسل پیداوار کا سلسلہ زیادہ عرصے تک برقرار نہ رہ سکا۔منصوبے کی تکمیل پر مجموعی طور پر تقریباً 508 ارب روپے خرچ ہوئے اور اسے مکمل ہونے میں 18 سال کا طویل عرصہ لگا تاہم منصوبے کے آپریشنل ہونے کے چند ہی برس بعد پیدا ہونے والی سنگین خرابی کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار مکمل طور پر رک گئی۔
ذرائع کے مطابق منصوبے کی بحالی کے لیے ایک غیر ملکی کمپنی کو تقریباً 35 ارب روپے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے،جس کے تحت متاثرہ نظام کی مرمت اور منصوبے کو دوبارہ بجلی کی پیداوار کے قابل بنانے کے لیے مختلف مراحل میں کام کیا جائے گا۔مرمتی عمل کی نوعیت اور متاثرہ انفراسٹرکچر کی صورتحال کے باعث منصوبے کی مکمل بحالی فوری طور پر ممکن نہیں۔نیلم جہلم منصوبے کے بنیادی نظام میں سب سے اہم مسئلہ 68 کلومیٹر طویل ہیڈریس ٹنل سے متعلق سامنے آیا تھا۔ذرائع کے مطابق اس طویل سرنگ کے صرف تقریباً 20 میٹر کے حصے میں ملبہ گرنے سے پانی کی ترسیل کا نظام متاثر ہوا،جس کے نتیجے میں ٹربائنز تک پانی کی رسائی بند ہوگئی اور بجلی کی پیداوار کا سلسلہ رک گیا۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ حصے سے ملبہ ہٹا کر سرنگ کو صاف اور خشک کردیا گیا ہے تاہم اصل مسئلہ صرف ملبہ ہٹانے تک محدود نہیں بلکہ سرنگ کے متاثرہ حصے کی مکمل تکنیکی بحالی اور مستقبل میں ایسے واقعے کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات بھی درکار ہیں۔ہیڈریس ٹنل دراصل نیلم جہلم منصوبے کے پورے پیداواری نظام میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے،کیونکہ اسی کے ذریعے پانی ٹربائنز تک پہنچتا ہے۔سرنگ کے نظام میں خرابی پیدا ہونے کے بعد پانی کی ترسیل رک گئی اور نتیجتاً 969 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والا پورا منصوبہ عملاً غیر فعال ہوگیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرنگ کے متاثرہ حصے میں خرابی یا بیٹھنے کی اصل وجوہات تاحال حتمی طور پر معلوم نہیں ہوسکیں۔یہی پہلو منصوبے کی بحالی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں اس کی پائیداری کے حوالے سے بھی اہم سوال بن چکا ہے۔ماہرین کے مطابق کسی بڑے ہائیڈرو پاور منصوبے کی بنیادی سرنگ میں خرابی کی وجوہات کا مکمل تعین انتہائی ضروری ہوتا ہے تاکہ مرمت کے بعد دوبارہ اسی نوعیت کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی طویل بندش کا براہ راست اثر ملک کے بجلی کے نظام پر بھی پڑ رہا ہے،کیونکہ 969 میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت رکھنے والا یہ منصوبہ طویل عرصے سے قومی گرڈ کو بجلی فراہم نہیں کر رہا۔ایسے وقت میں جب ملک کو بجلی کی طلب پوری کرنے،مہنگے تھرمل ذرائع پر انحصار کم کرنے اور سستی بجلی کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے،ایک بڑے پن بجلی منصوبے کی طویل بندش توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم چیلنج تصور کی جارہی ہے۔
منصوبے کی تاریخ بھی کم حیران کن نہیں۔نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو مکمل ہونے میں تقریباً 18 سال لگے اور اس پر 508 ارب روپے کے قریب لاگت آئی لیکن منصوبہ مکمل ہونے کے بعد بھی طویل عرصے تک بلاتعطل آپریشن برقرار نہ رکھ سکا۔اب مرمت کے لیے مزید 35 ارب روپے کے اخراجات اور تقریباً دو سال کی اضافی مدت اس منصوبے کی مجموعی اقتصادی لاگت اور افادیت پر مزید بحث کو جنم دے سکتی ہے۔حالیہ صورتحال نے اس بنیادی سوال کو بھی دوبارہ نمایاں کردیا ہے کہ بڑے قومی توانائی منصوبوں کی منصوبہ بندی،تعمیر،نگرانی،معیارِ تعمیر اور بعد از تکمیل دیکھ بھال کے نظام کو کس حد تک موثر بنایا گیا ہے۔اگر اربوں روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے کسی منصوبے کو چند سال بعد ہی طویل بندش کا سامنا کرنا پڑے تو اس کی وجوہات کا شفاف اور جامع تکنیکی جائزہ نہایت اہم ہوجاتا ہے۔فی الوقت منصوبے کی بحالی کا تمام تر انحصار جاری مرمتی کام،متاثرہ سرنگ کی مکمل بحالی اور تکنیکی مسائل کے مستقل حل پر ہے۔
وزارتِ آبی وسائل کے ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں 2028 سے قبل بجلی کی پیداوار دوبارہ شروع ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے تاہم حتمی مدت مرمتی کام کی پیش رفت اور تکنیکی صورتحال سے منسلک ہوگی۔یوں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ،جسے ملک میں نسبتاً سستی پن بجلی کی پیداوار کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اس وقت نہ صرف طویل بندش کا شکار ہے بلکہ اس کی بحالی کے لیے مزید اربوں روپے اور کئی سال درکار ہیں۔منصوبے کی بحالی کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ مستقبل میں اسے دوبارہ اسی نوعیت کے بحران سے کیسے محفوظ رکھا جائے گا اور 2028 میں بحالی کے بعد 969 میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت رکھنے والا یہ منصوبہ کس حد تک مستقل اور قابلِ اعتماد انداز میں بجلی فراہم کر پائے گا۔