اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں اور مختلف جماعتوں نے انتخابی میدان میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے حکمت عملی تیز کر دی ہے۔اس تناظر میں پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت بھی متحرک دکھائی دے رہی ہے اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے متوقع دورہ میرپور کو انتخابی مہم میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے واضح کیا ہے کہ آزادکشمیر میں انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے اور کسی بھی عنصر کو طاقت یا دباو کے ذریعے انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،حکومت شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے پرعزم ہے جبکہ سکیورٹی اور انتظامی معاملات کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ ووٹرز بلا خوف و خطر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر امیر مقام اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مشترکہ پریس کانفرنس میں آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، آئندہ انتخابات اور حکومتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف 19 جولائی کو میرپور کا دورہ کریں گے،جہاں وہ پارٹی سرگرمیوں اور انتخابی مہم کے حوالے سے اہم ملاقاتیں کریں گے،آزادکشمیر میں عام انتخابات 27 جولائی 2026 کو منعقد ہوں گے جبکہ قانون ساز اسمبلی اپنی آئینی مدت 4 اگست کو مکمل کرے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ انتخابات آئین اور قانون کے مطابق بروقت ہوں گے اور کسی بھی فرد یا گروہ کو طاقت، اسلحہ یا دباو کے ذریعے انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،حکومت شفاف،آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بیشتر مطالبات کو تسلیم کر لیا گیا ہے جبکہ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ آزادکشمیر اسمبلی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور اس پر فیصلہ بھی وہیں ہو گا،آئینی نوعیت کے معاملات میں پاکستان کی وفاقی حکومت براہ راست مداخلت نہیں کرتی۔رانا ثناء اللہ نے ان اطلاعات کا بھی ذکر کیا کہ بعض داخلی راستوں پر خوراک کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں،جس کا جائزہ لینے کے لیے حکومتی وفد علاقے کا دورہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انٹرنیٹ سروس عارضی طور پر معطل کی گئی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر گمراہ کن افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں تاہم حالات معمول پر آتے ہی انٹرنیٹ بحال کر دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ابتدا میں 38 مطالبات پیش کیے اور بعد ازاں مزید 8 نکات شامل کیے تاہم الحاقِ پاکستان سے متعلق شق کو نکال دینا باعث تشویش ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ الحاقِ پاکستان آزاد کشمیر کے آئین کا بنیادی حصہ ہے اور تمام منتخب نمائندے اسی کے تحت حلف اٹھاتے ہیں۔امیر مقام نے حکومتی ترقیاتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے آزادکشمیر کے لیے چار دانش سکولوں کی منظوری دی جبکہ 10 ارب روپے کی لاگت سے رتھوعہ ہریام پل کا منصوبہ مکمل کیا گیا،جو خطے میں آمدورفت اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کشمیر کے عوام کے ساتھ گہری وابستگی رکھتی ہے اور آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی،میرپور اور بھمبر سمیت مختلف علاقوں میں حالات پرامن ہیں اور سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف،غیر جانبدار اور قانون کے مطابق یقینی بنائے کیونکہ جمہوری طریقے سے ہی تمام مسائل کا حل ممکن ہے۔مجموعی طور پر حکومتی قیادت نے آزادکشمیر میں جمہوری تسلسل،سیاسی استحکام اور شفاف انتخابات کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔