گلگت(ایگزو نیوز ڈیسک)سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران علاقے کی موجودہ ترقیاتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بنیادی سہولتوں کی بہتری کے لیے نئے منصوبوں کا عندیہ دیا ہے۔گلگت میں ایک انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچر کی حالت پر سوال اٹھائے اور اپنی حکومت کے دوران کیے گئے ترقیاتی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے عوام سے حمایت کی اپیل کی۔
ایگزو نیوز کے مطابق گلگت بلتستان میں 7 جون کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں کی انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور اسی سلسلے میں بلاول بھٹو زرداری کے بعد نواز شریف بھی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لیے علاقے میں پہنچے ہیں۔ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے دوران عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علاقے کی موجودہ صورت حال پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے گلگت شہر میں بنیادی سہولتوں،خصوصاً سڑکوں کی خستہ حالی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔نواز شریف نے کہا کہ وہ کئی برس بعد اس خطے کے عوام سے براہ راست مخاطب ہو رہے ہیں۔انہوں نے حاضرین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کچھ لوگ انہیں بھول گئے ہوں تاہم ان کی محبت آج بھی گلگت بلتستان کے عوام کے لیے ویسی ہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شمالی علاقہ جات اور پہاڑوں سے انہیں خصوصی لگاو ہے اور یہاں کے لوگ ان کے دل کے قریب ہیں۔
نواز شریف نے گلگت ایئرپورٹ سے شہر تک سفر کے دوران سڑکوں کی خراب حالت کا ذکر کرتے ہوئے شدید افسوس کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ یہ حالات کیسے پیدا ہوئے؟اگر عوامی فلاح و بہبود کے لیے مختص وسائل کو درست طریقے سے استعمال کیا جاتا تو آج علاقے کی حالت مختلف ہوتی۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں ملک بھر میں سڑکوں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا گیا تاہم انہیں افسوس ہے کہ بعض اہم منصوبے گلگت بلتستان تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکے۔انہوں نے بغیر کسی جماعت کا نام لیے سابقہ حکومتوں سے سوال کیا کہ انہیں اقتدار ملنے کے باوجود اس خطے کی ترقی پر خاطر خواہ توجہ کیوں نہیں دی گئی۔نواز شریف نے اپنی جماعت کی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگتی ہے،نہ کہ مخالفین پر تنقید کے ذریعے۔انہوں نے بتایا کہ ان کے دور حکومت میں گلگت بلتستان میں ہسپتالوں،بجلی گھروں اور پن بجلی منصوبوں پر کام کیا گیا جبکہ شاہراہوں کی بہتری کے منصوبے بھی شروع کیے گئے۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ گلگت سے خنجراب تک شاہراہ کی توسیع کا منصوبہ مکمل نہ ہو سکا،حالانکہ اس سے خطے کی معاشی ترقی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ تمام اقدامات کوئی احسان نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کا حق تھے۔اپنے خطاب میں نواز شریف نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت کے دوران گلگت سے سکردو کے درمیان سفر کا دورانیہ نمایاں طور پر کم کیا گیا،جس سے عوام کو سہولت حاصل ہوئی۔انہوں نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ دیگر حکومتوں نے اس خطے کے لیے کون سے بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کیے۔نواز شریف نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کر کے گلگت ایئرپورٹ کی توسیع اور بڑے تجارتی طیاروں کی آمدورفت کے لیے اقدامات کی سفارش کریں گے تاکہ علاقے کو بہتر فضائی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
اپنے دورے کے دوران نواز شریف مسلم لیگ ن کے امیدواروں سے بھی ملاقات کریں گے۔اس موقع پر ان کے ہمراہ وزیر دفاع خواجہ آصف،وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال،وزیر بین الصوبائی رابطہ رانا ثناءاللہ، پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب،سینیٹر پرویز رشید،سینیٹر انوشہ رحمان اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود ہیں۔واضح رہے کہ گلگت بلتستان میں عام انتخابات 7 جون کو منعقد ہوں گے،جو شدید سرد موسم کے باعث تقریباً چار ماہ کی تاخیر کے بعد ہو رہے ہیں۔