بغداد (ایگزو نیوز ڈیسک)عراق میں طویل اور غیر متوقع بجلی کی بندش کے باعث ملک بھر میں شدید بحران پیدا ہو گیا ہے اور تمام صوبے مکمل تاریکی میں ڈوب گئے ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق وزارتِ بجلی نے تصدیق کی ہے کہ ایک ساتھ پورا ملک مکمل بلیک آوٹ سے متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں قومی پاور گرڈ مکمل طور پر بند ہو گیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق عراقیوزارتِ بجلی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے تمام صوبوں میں بجلی کا نظام اچانک معطل ہوا اور ہنگامی بنیادوں پر بحالی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مکمل بحالی میں وقت لگ سکتا ہے۔حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ بجلی کی بندش کی وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی،البتہ واقعے کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ تعطل کی اصل وجوہات معلوم کی جا سکیں۔ملک گیر بلیک آوٹ کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی،خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے۔بغداد سمیت کئی شہروں میں ٹریفک نظام،سرکاری دفاتر،ہسپتالوں اور کاروباری مراکز کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب بغداد میں قائم امریکی سفارتخانے نے عراق میں موجود تمام امریکی شہریوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو محفوظ طریقے سے ملک چھوڑ دیں۔سفارتخانے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جب تک انخلا ممکن نہ ہو،امریکی شہری کسی محفوظ مقام پر پناہ لیں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خلیجی خطے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں جبکہ ایران نے بھی خلیجی عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق ان حملوں میں چار امریکی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عراق میں اچانک بجلی کی مکمل بندش کو خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، اگرچہ حکام نے کسی بیرونی مداخلت یا حملے کی تصدیق نہیں کی۔ تاہم تحقیقات کے نتائج سامنے آنے تک قیاس آرائیاں جاری رہنے کا امکان ہے۔عراقی حکومت کو اس غیر معمولی بحران کے باعث نہ صرف توانائی کے نظام کی بحالی بلکہ عوامی اعتماد کی بحالی کا بھی چیلنج درپیش ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔