Home » سہیل آفریدی کو دہشت گردوں سے ہمدردی ہے تو افغانستان چلے جائیں،طلال چوہدری نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو کھری کھری سنا دیں

سہیل آفریدی کو دہشت گردوں سے ہمدردی ہے تو افغانستان چلے جائیں،طلال چوہدری نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو کھری کھری سنا دیں

by ahmedportugal
6 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)قومی سلامتی اور ریاستی موقف پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں،دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا بیانیہ واضح،دوٹوک اور غیر متزلزل ہے۔وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے حالیہ بیانات کو قومی مفادات کے منافی قرار دیتے ہوئے سخت لہجہ اختیار کیا اور کہا کہ اگر دہشت گردوں کے لیے اتنی ہی ہمدردی ہے تو افغانستان جانا بہتر ہو گا کیونکہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار جانوں کی قربانی دی ہے اور اب کسی ابہام یا نرمی کی گنجائش باقی نہیں رہی۔
ایگزو نیوز کے مطابق فاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے بیانات پر شدید ردعمل دیا اور کہا کہ اگر انہیں دہشت گردوں سے اتنی ہی ہمدردی ہے تو وہ افغانستان چلے جائیں،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں اور قومی بیانیے کے خلاف کسی قسم کا ابہام برداشت نہیں کیا جائے گا۔طلال چودھری کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی جان بوجھ کر کنفیوژن پیدا کر رہے ہیں،افغانستان کو دہشت گردی کے شواہد دیے جائیں،انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سہیل آفریدی کو معلوم نہیں کہ دہشت گرد کہاں سے آتے ہیں جبکہ دنیا کے دو درجن سے زائد ممالک افغانستان سے دہشت گردی کی تصدیق کر چکے ہیں۔

وزیرمملکت داخلہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی دہشت گردوں کے ساتھ نرم رویے کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ گیارہ برسوں میں پی ٹی آئی کے کسی بڑے رہنما،وزیر یا مشیر پر کوئی حملہ نہیں ہوا جبکہ کالعدم دہشت گرد تنظیمیں کھلے عام افغانستان میں موجود ہیں۔طلال چودھری کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی افغانستان کے لیے نرم گوشہ کیوں رکھتے ہیں؟یہ ایک سنجیدہ سوال ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ قومی بیانیے کے خلاف کوئی ابہام قابل قبول نہیں، دہشت گردوں کے خلاف نرمی نا قابل برداشت ہے اور ریاست دشمن عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بارہ سو سے زائد شہری دہشت گردی کا نشانہ بنے،معصوم لوگوں کے سروں سے فٹ بال کھیلے گئے،اب یہ پوچھنا کہ اور کتنا خون چاہیے؟خود ایک سوالیہ نشان ہے،یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ سڑکوں پر فساد برپا کرنا ضروری ہے یا شہداء کے ساتھ کھڑا ہونا۔

وزیرمملکت داخلہ نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ جتنا زیادہ انتشار ہوگا، ریاست اتنی ہی کمزور ہوگی اور اسے بلیک میل کیا جا سکے گا، لیکن دہشت گردوں سے نرم رویہ رکھ کر ریاست کو دباو میں لانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔طلال چودھری نے دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر کسی سیاسی رہنما نے دہشت گردوں کے حوالے سے ابہام پیدا کیا تو اس کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان سے اتنی محبت ہے تو وہاں چلے جائیں، ورنہ ریاست ایسے عناصر کو خود وہاں پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز