اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اس وقت گرما گرمی دیکھنے میں آئی جب پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں عالمی مالیاتی ادارے( آئی ایم ایف)سے منسلک قرار دے دیا۔انہوں نے ایوان میں حکومت کو معیشت،مہنگائی،ٹیکس وصولی اور قرضوں کے حوالے سے ماضی اور حال کا تفصیلی تقابلی جائزہ پیش کرنے کا چیلنج دیا،جس پر ایوان کا ماحول خاصا تلخ ہو گیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق قومی اسمبلی بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کی بات کی ہے،آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا کہا گیا،کیا آپ نے وہ خط پڑھا،اس میں کوئی ایسا لفظ ہے جس میں پاکستان کے نقصان کی بات ہو؟ہمارے وقت میں اکانومی کیا تھی آج کیا ہے؟ٹیکس کلیکشن تب کیا تھی اور آج کیا حالات ہیں؟اس پر بحث کریں۔اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ابھی منسٹر صاحب نے بہت لمبی چوڑی تقریر کی اور جس طرح انہوں نے حقائق کو مسخ کیا،جس طرح غلط بیانی کی،مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ ”منہ میں رام رام، بغل میں چھری“ والی بات ہے،پاکستان تحریک انصاف نے ہمیشہ اصولوں کی بات کی ہے،قانون کی حکمرانی اور ملک میں آزاد عدلیہ کی بات کی ہے،ابھی یہ موصوف کہہ رہے تھے کہ آیا آپ نے آئی ایم ایف پروگرام کے خلاف کوئی خط لکھا ہے،آئی ایم ایف پروگرام کو روکنے کے لیے کوئی قدم اٹھایا ہے،میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جو خط آئی ایم ایف کو لکھا گیا ہے،کیا آپ نے خود پڑھا ہے،کیا اس میں کوئی ایسا لفظ ہے جو پاکستان کی ترقی،خوشحالی یا عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے کسی اقدام پر سمجھوتے کی بات کرتا ہو،ہم نے صرف اپنا نقط نظر دیا ہے،ہم نے ہمیشہ پاکستان کی بات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ حکومت کا نہیں آئی ایم ایف کا بجٹ ہے،ملک میں بے روزگاری ہے،اس الیکشن کمیشن کو ایک دن بھی نہیں رہنا چاہئے،ٹیکس چوری پر موثر اقدام ہونا چاہئے،بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل مینول کے مطابق ملاقاتیں بند ہیں،علاج نہیں ہو رہا،عدالتوں کے دروازے بند ہوں گے تو ایک ہی راستہ ہوتا ہے وہ سڑکوں پر ہے۔انہوں نے کہا کہ میں ان کو ایک اور چیلنج کرتا ہوں،آئیں اس ہاوس میں بحث کر لیتے ہیں کہ ہمارے دور میں معیشت،ٹیکس وصولی اور مہنگائی کی کیا صورتِ حال تھی اور آج کیا صورتِ حال ہے؟ہم نے کتنا قرض لیا اور آپ نے کتنا لیا؟ہم نے کتنا قرض واپس کیا اور آپ نے کتنا واپس کیا؟ ہمارے وقت میں ڈالر کا ریٹ کیا تھا اور آج کیا ہے؟ ہمارے وقت میں پیٹرول اور بجلی کی قیمتیں کیا تھیں اور اب کیا ہیں؟ایک شعبہ ہی بتا دیں جس میں آپ نے عوام کو ریلیف دیا ہو؟آپ نے پنجاب کے کسان کا بھرکس نکال دیا۔صرف گندم کی فصل میں پنجاب کے کسان کو 2.2 کھرب روپے کا نقصان ہوا،کسان تباہ و برباد ہو گیا۔آپ نے صنعت کو تباہ و برباد کر دیا اور پھر کہتے ہیں کہ آپ نے بہت بڑا تیر مار لیا۔ذرا بتائیں کہ اب تک آپ ملک میں کتنی سرمایہ کاری لائے ہیں؟ 90 ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک سے جا چکی ہیں۔
سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کہا کہ ہمارے صوبے کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے،سوتیلی ماں کا سلوک ہو رہا ہے،میں آپ کے سامنے سٹیٹکس پیش کرنا چاہتا ہوں،اس وقت جو خیبر پختونخوا کے وفاق کے ذمے بقایاجات ہیں وہ 434 ارب ہیں،این ایچ پی 68 ارب،فاٹا کے جو کمٹمنٹس ہیں 216 ارب،آئل اینڈ گیس 83 ارب اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے 53 ارب بقایاجات ہیں،مجموعی طور پر 434 ارب روپے آپ نے ایک صوبے کے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں، آپ کس قانون کے تحت ہمارے صوبے سے 175 ارب مانگ رہے ہیں؟آپ صوبے کے بقایاجات بھی ادا نہیں کر رہے،آپ نے پی ایس ڈی پی میں خیبر پختونخوا کا صرف 3.8 فیصد حصہ رکھا ہے،آپ کیوں صوبوں کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں؟آپ کیوں سیاسی مخالفت کی وجہ سے خیبر پختونخوا کو دیوار سے لگا رہے ہیں۔
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ پشاور کا تاجر کراچی اور لاہور کی مارکیٹ کا کیسے مقابلہ کر سکتا ہے؟ ہمارے پاس اگر ایک گنجائش ہے تو وہ افغانستان اور سینٹرل ایشیا ہے، آپ نے افغانستان کے ساتھ ہمارا بارڈر بند کیا،کاروبار بند کیا جس کی وجہ سے پشاور میں جو انڈسٹری ہے وہ بیٹھ رہی ہے،خدارا ہمارے ساتھ یہ ظلم نہ کریں،ہم سے سیاسی انتقام نہ لیں،آپ بھارت کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ واہگہ بارڈر کھولا ہے یا نہیں کھولا؟آپ ایران کے ساتھ جنگ میں بھی کاروبار کر رہے ہیں،اگر امریکا اور ایران آپس میں بیٹھ کر اتنے بڑے تنازعات حل کر سکتے ہیں تو آپ ڈپلومیٹک چینل کے ذریعے اس کے ساتھ اپنا نقطہ نظر پیش کریں،آپ سفارتی چینل استعمال کریں،اگر وہ نہیں کر سکتے تو ہم تیار ہیں،جرگوں کے ذریعے اپنے معاملات کو حل کرتے ہیں لیکن خدارا ہمیں کاروبار کرنے دیں،ہمیں روزگار کرنے دیں۔
اسد قیصر نے کہا کہ میں جس علاقے سے تعلق رکھتا ہوں،اس علاقے میں جو سب سے زیادہ فصل ہوتی ہے وہ تمباکو ہے۔ 70 فیصد تمباکو کے کاشتکار ہیں،یہ کیش کراپ ہے جس کی وجہ سے ہماری اکانومی چلتی ہے،یہاں میرے بارے میں ایک موصوف صاحب نے کہا کہ شاید میرا تمباکو کا کاروبار یا روزگار ہے،میں حلفیہ کہتا ہوں کہ نہ میرا تمباکو کا کوئی کاروبار ہے نہ روزگار ہے اور میں تمباکو کے پتے کو بھی نہیں جانتا لیکن میں اس حلقے کا نمائندہ ہوں جہاں تمباکو کی فصل ہوتی ہے،آپ نے تمباکو پر 390 ارب روپے کا ٹیکس لگایا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جب آپ نے ٹیکس لگایا،اس سے پہلے 2023-24 میں ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق آپ کی ٹیکس کلیکشن 394 ارب روپے تھی لیکن جب یہ ٹیکس لگایا تو آپ کی ٹیکس کلیکشن گر کر 165 ارب روپے ہو گئی،خیبر پختونخوا کے ان اضلاع میں جہاں تمباکو کی فصل ہوتی ہے،وہاں کے کسانوں کو بالکل کرش کر دیا گیا ہے،کسان بیچارے رو رہے ہیں،آپ نے مارکیٹ میں کمپٹیشن ختم کر دیا،آپ نے چھوٹی اور بڑی کمپنیوں پر یکساں ٹیکس لگا دیا،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ تیسرا ٹیکس سلیب لے کر آئیں تاکہ کمپٹیشن میں اضافہ ہو اور کسانوں کو اپنی فصل کا اچھا نرخ مل سکے۔