Home » اپنی افواج پر فخر کریں

اپنی افواج پر فخر کریں

تحریر: راجہ نصرت علی

by ahmedportugal
36 views
A+A-
Reset

فیلڈ مارشل سید عاصم منیربطور آئی ایس آئی چیف جب اس وقت کے وزیراعظم عمران خاں کے پاس وہ فائل لے کر گئے تھے جس میں ان کے خاندان کی کرپشن کی تفصیلات ثبوتوں کے ساتھ اکٹھی کی گئی تھیں تو قیاس ہی کیا جا سکتا ہے کہ ان کے ذہن میں کیا ہو گا؟ بظاہر تو یہ بڑا دل گردے کا کام تھا نوکری کو خطرے میں ڈالنے والی بات تھی لیکن پھر بھی انہوں نے یہ رسک کیوں لیا؟اولاً تو یہ احساس ذمہ داری اور وفاداری ہو سکتی ہے کہ اس سے پہلے کہ وزیراعظم پر کرپشن کا الزام آئے اس اہم ایشو کو ان کے نوٹس میں لانے میں دیر نہ کی جائے۔ثانیاً ہو سکتا ہے کہ سیّد عاصم منیر سپورٹس مین وزیراعظم سے اپنی اس فرض شناسی پر داد کی توقع کر رہے ہوں۔بہرحال وزیراعظم عمران خاں کو یہ اتنا برا لگا کہ انہوں نے اسے ایک بڑی گستاخی خیال کرتے ہوئے ان سے ڈی جی آئی ایس آئی کا چارج واپس لینے کا حکم صادر فرما دیا۔

یہ ایک واقعہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سابق وزیراعظم عمران خاں کی شخصیت کے تقابلی جائزہ کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔بطور آرمی چیف اور سی ڈی ایف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج بھی وزیراعظم کے ماتحت ہیں مگر اپنے کردار اور پیشہ ورانہ کارکردگی کی بنا پران کی پہچان قومی و بین الاقوامی سطح پر ہے۔مئی 2025ء میں ان کی کمانڈ میں بھارتی جارحیت کا موثر جواب پاکستان کیلئے نہ صرف نئی آن اور نئی شان کا موجب بنا بلکہ پاکستان مشرق و مغرب کی دلچسپی کا مرکز بن گیا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس وقت امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں ثالثی کے کردار میں دنیا کی توجہ کا مرکزہیں اور پاکستان کو اس پر بڑی پذیرائی مل رہی ہے۔دوسری طرف عمران خاں نے سید عاصم منیر کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل(اب نہیں)فیض حمید کو آئی ایس آئی کا چیف مقرر کیا۔عمران خاں ان کے کام سے اتنے مطمئن تھے کہ ان کی بطور کورکمانڈر ٹرانسفر پر بڑے سیخ پا ہوئے وہ انہیں ڈی جی آئی ایس آئی نہ صرف برقرار رکھنا چاہتے تھے بلکہ انہیں آرمی چیف بھی بنانا چاہتے تھے لیکن عمران خاں کے اس پسندیدہ جنرل کو ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ سنگین الزامات کی پاواش میں کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا،اب وہ چودہ سال قید کاٹ رہے ہیں۔

عثمان بزدار کا ذکر نہ بھی کریں صرف فیض حمید میں ہی عمران خاں کی دلچسپی ان کی دیانتداری اور راست بازی کو عیاں کر دیتی ہے۔جنرل قمرجاوید باجوہ نے 2018ء کے انتخابات سے قبل شہباز شریف کو آئندہ وزیراعظم بننے کی پیشکش کی ان کے انکار پراپنے پیش رووں کی پالیسی پر عمل درآمد کے طور پر عمران خاں کو وزیر اعظم بنوایااور ان کی بطور وزیر اعظم کامیابی کیلئے پورا تعاون بھی فراہم کیا لیکن عمران خاں کی حماقتیں اتنی بڑھ گئیں کہ انہیں مجبوراً پیچھے ہٹنا پڑا۔عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عمران خاں نے اپوزیشن کم بغاوت اور غداری زیادہ کی۔نو مئی کا ہونا،فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلانا،فوج میں بغاوت اور پھوٹ کی افواہیں اڑانا،پختون کارڈ کا استعمال، 1971ء یاد کرانا اور شیخ مجیب کی مثالیں دینا،آئی ایم ایف سے فنڈز رکوانے،امریکہ میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر فوج اور پاکستان کے خلاف لابنگ اور کانگریس میں بل پاس کروانا،پاکستانی تارکین وطن سے پیسے نہ بھیجنے کی اپیلیں، عوام کو فرقہ ورانہ تشدد پر اکسانا،دہشت گردی کے خلاف فوجی کاروائی کی مخالفت،مئی 2025ء میں بھارت پر پاک فضائیہ کی سبقت کو کم تر پیش کرنے میں بھارتی میڈیا کی ہم نوائی،عوام کوسڑکوں پر لانے کیلئے عمران خاں کی بیماری اور موت کی جھوٹی خبریں پھیلانا وغیرہ کو کسی سیاسی جماعت کی سرگرمی قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن پھربھی بہت سے معاملات میں کسی قسم کی کاروائی سے گریزکا مطلب تھا کہ فیصلہ عوام کو کرنے دیا جائے۔

پاکستان کی آئی ایس آئی ہمارا فخر ہے اور بھارت پر خصوصاً اس کا بڑا نفسیاتی رعب ہے۔ذمہ دار شہری اس پر احتیاط سے بات کرتے ہیں لیکن اس ادارہ کے اعلیٰ افسران کا جلسوں میں نام لے لے کر ذکر معلوم نہیں کیوں کیا جاتا رہا۔وہ فوج جس میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر اعلیٰ افسران کے کورٹ مارشل کی مثالیں موجود ہوں۔وہ سرکشی کی سیاست جس میں فوج کو بھی گھسیٹا جائے برداشت کرے گی؟کیا یہ قومی سلامتی کا ایشو نہیں ہے؟عسکری قیادت کی برداشت کا اوارڈ بنتا ہے۔بطور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو بھی عسکری قیادت کے ساتھ بڑے تلخ تجربات کا سامنا رہا لیکن وہ پھر بھی تین بار وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوئے چونکہ وہ زیرک طبع تھے کوئی غیرمناسب بات میڈیا سے نہ کرتے تھے۔

الیکشن 2024ء کے نتیجہ میں عام اندازہ یہی تھا کہ آئندہ وزیر اعظم وہی ہوں گے لیکن نہیں بنے یا بننے نہیں دیا گیا،وہ خاموش ضرور ہوگئے،کوئی طوفان نہیں آگیا۔اس کے برعکس عمران خاں نے عدم اعتماد کی بناپر اقتدار چھن جانے پر فوج کو ایسے تنقید کا نشانہ بنایا،جیسے یہ کوئی سیاسی جماعت ہے اور یہ کہ ان کو نکالا ہی فوج نے ہے ۔حالانکہ وہ بھی وزیر اعظم شہباز شریف کے خلاف قومی اسمبلی میں اکثریت ثابت کر کے دوبارہ وزیر اعظم بن سکتے تھے یا پھر آرام سے الیکشن کا انتظار کرتے تو ان کیلئے صورت حال یہ نہ ہوتی جو آج ہے  لیکن انہوں نے اپنے آپ کو ٹکر کا سیاست دان ثابت کر نا مقصد بنا لیا تو حکومت بھی انہیں عدالت میں لے جانے پر مجبور ہو گئی ۔
بہرحال حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو بڑا واضح ہے کہ فوج کو سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں ہے،اگرچہ اس کا جواز موجود رہتا ہے۔جنرل مشرف کے ٹیک اوور کے موقع پر اور الیکشن 2018ء سے قبل شہباز شریف کو فوج کی طرف سے وزیر اعظم بننے کی پیشکش پاک فوج کی اقتدار میں عدم دلچسپی کی مضبوط دلیل ہے۔پہلگام واقعہ کے بعد انڈیا پر واضح کر دیا جاناکہ اس کی طرف سے کسی بھی قسم کی جارحیت کا پاکستان جواب دے گا،اس بات کا اشارہ ہے کہ پاک فوج کو قومی سلامتی پر کسی صورت سمجھوتہ قبول نہیں ہے۔اگرچہ پاکستان کے معاشی و سیاسی حالات کسی بھی قسم کی مہم جوئی کی اجازت نہ دیتے تھے لیکن پھر بھی ہماری عسکری قیادت نے معذرت خواہانہ سفارتکاری یا بیک ڈور ڈپلومیسی کی بجائے دشمن کا غرور توڑنا ہی ضروری خیال کیا۔

عسکری قیادت کا یہ اقدام پاکستان کے عوام اور پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے بہت ہی خوش آئند پیغام تھا کہ افواج پاکستان اتنی منظم،مضبوط اور دفاعی لحاظ سے خود کفیل ہیں کہ پاکستان کی کمزور معیشت اور غیرمستحکم سیاست کے باوجود ملک کا دفاع کر سکتی ہیں اور یہ کہ بھارت کے معاشی و سیاسی استحکام ،عسکری طاقت اور عددی برتری سے بھی پاک فوج مرعوب ہونے والی نہیں ہے۔بھارت نے پاکستان کے خلاف جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کیلئے اسرائیل کے ماہرین کی مدد حاصل کر رکھی تھی لیکن پاکستان کے شاہینوں اور جوانوں نے دشمن کو گھنٹوں میںبے بس کردیا۔نہ صرف انڈیا دنیا میں بہت زیر ہو گیا بلکہ پاکستان اپریشن بنیان المرصوص کے بعد دنیا کا معززومعتبر ملک بن کر ابھرا۔افواج پاکستان کی یہ تاریخی اور عظیم کامیابی پاکستانی سیاست کے ان کرداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے جو اپنی اینٹی اسٹبلشمنٹ سیاست کو جمہوریت پسندی اور جرات مندی کی علامت خیال کرتے ہیں۔

اس حوالے سے ایک بڑی سیاسی جماعت نامعلوم مقاصد کی تکمیل کیلئے فوج سے ٹکرانے کی پالیسی پر گامزن چلی آ رہی ہے،ان کی غلط فہمی دور ہو جانی چاہیے کہ پاکستان کی عسکری قیادت کسی بھی قسم کے اندرونی و بیرونی دباو میں آنے والی نہیں ہے چونکہ اس کی کلیت اور دیانتداری(Integrity) بڑی مسلمہ ہے۔ پاکستان کے سیاسی گرووں کو بھی پاکستان کے سیکورٹی خدشات کو پوری طرح سمجھ کر فوج کے ساتھ چلنا چاہیے۔یہ اپنی فوج ہے اور کوئی عام فوج نہیں ہے، یہ بھارت جیسے بڑے ملک اور بڑی فوجی طاقت کو دنیا میں زیر کر کے اپنی عسکری (Strategic) حیثیت دنیا کی بڑی طاقتوں سے منوا سکتی ہے تویقیناً پاکستان کی اہمیت بین الاقوامی امور میں بالعموم اور اسلامی دنیا میں بالخصوص بڑھ سکتی ہے۔اس کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنا سیاسی قبلہ بھی درست کریں اور معیشت کو بھی مضبوط کریں تاکہ پاکستان اقوام عالم میں ایک مضبوط و موثر آواز بن کر کشمیر اور فلسطین جیسے تنازعات کے حل میں کردار ادا کر سکے۔

یہ ہماری عسکری حیثیت کا کمال ہے کہ پاکستان امریکہ کا دوست بھی ہے اور اسرائیل کے خلاف ایران کا اعلانیہ حمایتی بھی۔ اس وقت پوری دنیا پاکستان کے مشکل ترین ثالثی کے کردار کو سراہ رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان اہل بھی ہے اور دنیا کو قبول بھی لہٰذا افواج پاکستان اگر ہمیں اس مقام پر لے آئی ہیں تو اس مقام کو برقرار رکھنے کیلئے اپنے اس اثاثہ کی قدر کریںاور فائدہ اٹھائیں۔اگر ہماری عسکری قیادت ٹکر کے وزرائے اعظم سے الجھی رہتی،اپنے طور پر دشمن کی فوجی طاقت کے مطابق اس کی تیاری نہ ہوتی تو پاکستان بھارت کو منہ توڑ جواب نہ دے پاتا۔افواج پاکستان زندہ باد ۔۔۔ پاکستان پائندہ باد

 

 

 

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز