عمان(ایگزو نیوز ڈیسک)آبنائے ہرمز میں ایک سعودی پرچم بردار آئل ٹینکر پر پراسرار حملے کے بعد عالمی بحری سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ حکام کے مطابق عمان کے ساحل کے قریب پیش آنے والے اس واقعے میں نامعلوم پروجیکٹائل کے ذریعے جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جس کے نتیجے میں اسے نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی اطلاع نہیں ملی جبکہ واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق آبنائے ہرمز کے حساس سمندری راستے میں ایک سعودی پرچم بردار تیل بردار ٹینکر کو نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا ہے،جس کے نتیجے میں جہاز کو جزوی نقصان پہنچا۔ بین الاقوامی بحری سیکیورٹی اداروں کے مطابق یہ واقعہ عمان کے ساحل کے قریب پیش آیا،جہاں نامعلوم پروجیکٹائل کے ذریعے حملہ کیا گیا۔برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق حملے کے نتیجے میں ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی تاہم بروقت اقدامات کے باعث صورتحال کو قابو میں کر لیا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم جہاز کو نقصان ضرور پہنچا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ سلطنتِ عمان کی لیما بندرگاہ کے مشرق میں تقریباً 8 میل کے فاصلے پر پیش آیا۔واقعے کے فوراً بعد متعلقہ حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ علاقے میں موجود دیگر بحری جہازوں کو ہائی الرٹ رہنے،محتاط نیویگیشن اختیار کرنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب اس سے قبل بھی اسی خطے میں ایک ایل این جی ٹینکر کو پروجیکٹائل حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا،جس سے خطے میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں شامل ہے،جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی کی فراہمی اور تجارتی سرگرمیوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات کے بعد خلیجی پانیوں میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے اور بین الاقوامی بحری ادارے صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔