Home » مصطفی کمال کا الطاف حسین پر ڈاکٹر عمران فاروق قتل کا سنگین الزام ،پریس کانفرنس میں تمام اخلاقی حدود پھلانگتے ہوئے بانی ایم کیو ایم کو حرامی اور بے غیرت کہتے رہے

مصطفی کمال کا الطاف حسین پر ڈاکٹر عمران فاروق قتل کا سنگین الزام ،پریس کانفرنس میں تمام اخلاقی حدود پھلانگتے ہوئے بانی ایم کیو ایم کو حرامی اور بے غیرت کہتے رہے

by ahmedportugal
9 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بانی ایم کیو ایم الطاف حسین پر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا سنگین الزام عائد کیا اور اس موقع پر سخت اور غیر معمولی زبان استعمال کرتے ہوئے انہیں متعدد بار ”حرامی“ اور ‘”بے غیرت” قرار دیا اور کہا کہ اس قتل کے پیچھے الطاف حسین کی ہدایت کارانہ ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں سچائی سامنے آنا ضروری ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے خلاف نہایت سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے عمران فاروق قتل کیس سے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ یہ قتل بانی ایم کیو ایم کی ہدایت پر کروایا گیا۔ مصطفی کمال نے انتہائی سخت اور غیر معمولی لب و لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اس معاملے سے متعلق شواہد موجود ہیں، تاہم ثبوت پریس کانفرنس میں نہیں بلکہ عدالت میں پیش کیے جاتے ہیں اور یہ ریاست کا کام ہے کہ وہ مقدمہ چلائے۔مصطفی کمال نے کہا کہ عمران فاروق کو قتل کر کے اسے بانی ایم کیو ایم کے لیے ”سالگرہ کے تحفے“ کے طور پر پیش کیا گیا، وہ دو سال سے خاموش تھے لیکن جب بانی ایم کیو ایم کی جانب سے غداری کے سرٹیفکیٹس بانٹے گئے تو خاموش رہنا ممکن نہ رہا، اگر بانی ایم کیو ایم چاہتے تو اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے آئینی ترمیم محض چند منٹوں میں منظور کرا سکتے تھے، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ عمران فاروق کے قتل کے بعد ان کے تکیے کے نیچے سے پانچ لاکھ پاونڈ برآمد ہوئے،جبکہ ان کی میت پاکستان بھیجنے کے لیے بھی چندے کی مد میں بڑی رقم وصول کی گئی۔ مصطفی کمال کے مطابق اصل قاتلوں کو گرفتار کیا جانا چاہیے اور اس کیس میں مزید پردہ پوشی ناقابل قبول ہے، عمران فاروق کی بیوہ کے معاملے پر جذباتی بیانات دیے جا رہے ہیں جبکہ اصل حقائق کو منظر عام پر نہیں لایا جا رہا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بانی ایم کیو ایم نے طویل عرصے تک بیرونی خفیہ ایجنسی ”را“ سے رقوم وصول کیں اور یہ کہ ماضی میں ہونے والی متعدد وارداتوں کے مقدمات کارکنوں پر درج ہوتے رہے۔ مصطفی کمال نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بانی ایم کیو ایم عوامی ہمدردی کے لیے مگرمچھ کے آنسو بہاتے رہے اور لاشوں پر سیاسی مقاصد کے لیے بیانات دیے جاتے رہے۔مصطفی کمال نے کہا کہ عمران فاروق قتل کیس میں سچ کا سامنے آنا ناگزیر ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں، ماضی میں ایک فون کال پر لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آتے تھے لیکن اس طاقت کے باوجود آئینی اور جمہوری اصلاحات کی جانب سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے مہاجر قوم کی بدقسمتی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کے حقائق سامنے آنا پوری قوم کے لیے ضروری ہیں۔واضح رہے کہ یہ تمام الزامات مصطفی کمال کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں جبکہ بانی ایم کیو ایم کی طرف سے اس موقف پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز