پشاور(ایگزو نیوز ڈیسک)خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور سیکیورٹی صورتحال پر پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما مراد سعید نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی پالیسیوں اور انسداد دہشت گردی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔مراد سعید نے دعویٰ کیا ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے کو صرف کارروائیوں اور اعداد و شمار تک محدود کرنے کے بجائے اس کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لینا ہو گا۔ان کے بیان کے بعد ملک میں سیکیورٹی پالیسی،امن و امان اور دہشت گردی کے خاتمے کے طریقہ کار پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی روپوش رہنما اور سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے خیبرپختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات،سیکیورٹی کارروائیوں اور ریاستی پالیسیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کبل دیر،وزیرستان،ہنگو اور بلوچستان میں ہونے والی شہادتیں قوم کے سامنے ایک بڑے سوال کی صورت میں موجود ہیں،کہیں لوگوں کو علاقے چھوڑنے کا حکم دیا جا رہا ہے اور کہیں فصلیں تیار ہونے سے پہلے کاٹنے کے احکامات دیے جا رہے ہیں،جو لوگ ڈرون حملوں،لڑاکا طیاروں،دھماکوں اور مبینہ دہشت گردی سے محفوظ ہیں،ان کے لیے ریاست ہر پرامن اجتماع کو نشانہ بنانے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔
سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر سیکیورٹی اداروں کی کارروائیوں سے متعلق بیانات سامنے آتے ہیں جبکہ پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی شہادتوں کی خبریں بھی مسلسل آ رہی ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیکورٹی کے نام پر طاقت کے استعمال کا سلسلہ جاری ہے اور اصل مسائل پر بات کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔مراد سعید نے کہا کہ قوم واقعات پر ردعمل دینے تک محدود ہو چکی ہے،ایک سانحے کے بعد دوسرا سانحہ،ایک دھماکے کے بعد دوسرا دھماکہ اور ایک آپریشن کے بعد دوسرا آپریشن سامنے آتا ہے لیکن بنیادی وجوہات پر گفتگو نہیں کی جاتی۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی واقعے،پالیسی یا ماضی کے تجربات کی نشاندہی کرے تو اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قوم کو یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے اور ان پالیسیوں کا جائزہ کیوں نہیں لیا جاتا جن کے باعث مسائل دوبارہ جنم لیتے ہیں۔
مراد سعید نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی اچانک پیدا نہیں ہوئی بلکہ پالیسیوں کے نتیجے میں حالات یہاں تک پہنچے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے وہ اپنے بیانات میں ان خطرات کی نشاندہی کرتے رہے ہیں اور خبردار کرتے رہے ہیں کہ اگر آگ پھیلی تو اس کی لپیٹ میں سب آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ میں امن کی بحالی کیلئے عوام نے قربانیاں دیں تاہم ان کے مطابق بعض فیصلوں کے باعث حالات دوبارہ خراب ہوئے۔مراد سعید نے سوال اٹھایا کہ اگر سرحد محفوظ تھی اور باڑ موجود تھی تو دہشت گرد عناصر دوبارہ کیسے داخل ہوئے؟جب وہ ان معاملات پر بات کرتے ہیں تو انہیں غداری جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ان کے مطابق اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بنیادی وجوہات پر توجہ دی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھی تو اسی دوران جنوبی اضلاع میں حالات مزید خراب ہوئے اور دہشت گردی کا پھیلاو دیکھنے میں آیا،ڈرون حملوں،فضائی کارروائیوں،ٹارگٹ کلنگ اور دھماکوں کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟اس پر سنجیدہ غور کرنا ہو گا۔مراد سعید نے کہا کہ وطن کے لیے جان قربان کرنے کا عزم اپنی جگہ لیکن نوجوانوں اور عام شہریوں کی زندگیاں مسلسل خطرات میں نہیں ڈالی جا سکتیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مستقل اور واضح حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ ملک میں امن قائم ہو سکے۔