کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)مفتی اعظم پاکستان اور معروف مذہبی سکالر مفتی منیب الرحمان نے عدالتی نظام میں طویل تاخیر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہائیوں تک انصاف نہ ملنا دراصل انصاف کے بنیادی اصولوں کی نفی ہے،حکمران عالمی نہیں،ملکی مسائل حل کریں40 سال تاخیر والا نظام عدل ظلم ہے۔ان کے اس بیان کو حکومتی پالیسیوں،معاشی چیلنجز اور عوامی مسائل کے تناظر میں ایک سخت اور براہِ راست تنقید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین مفتی منیب الرحمان نے ملک کے نظام عدل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی عدالتی نظام 40 سال تک انصاف فراہم نہ کر سکے تو وہ انصاف نہیں بلکہ ظلم کے مترادف ہے،انصاف میں غیر معمولی تاخیر نہ صرف عوام کا اعتماد مجروح کرتی ہے بلکہ عدالتی نظام کی افادیت پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا نظام جس میں کسی ملزم کو سزائے موت کے بعد برسوں گزرنے پر بری کیا جائے،اسے موثر اور منصفانہ عدل نہیں کہا جا سکتا،اختیار رکھنے والے افراد جب انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو اس کا نتیجہ معاشرتی ناانصافی اور بداعتمادی کی صورت میں نکلتا ہے۔
مفتی منیب الرحمان نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی معاملات میں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے اندرونی مسائل کے حل پر بھی توجہ دیں۔انہوں نے خاص طور پر توانائی کے شعبے میں موجود مسائل،بالخصوص آئی پی پیز کے معاملات کو فوری طور پر حل کرنے پر زور دیا۔انہوں نے ملکی معیشت کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں صوبوں کے حصے اور قرضوں پر سود کی ادائیگی کے بعد قومی خزانے میں ترقیاتی کاموں کے لیے خاطر خواہ وسائل باقی نہیں رہتے،جو ایک سنگین معاشی چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سماجی رہنما مولانا بشیر فاروقی نے بھی سودی نظام کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی،اگر حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو وہ روایتی بینکنگ نظام سے وابستہ ایک لاکھ سے زائد افراد کو متبادل اسلامی مالیاتی نظام کے لیے تربیت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ عدالتی اصلاحات،معاشی استحکام اور سودی نظام کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ ملک میں انصاف، شفافیت اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔