کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) پاکستان نے ملک میں آبادی اور انتظامی ضروریات کے مطابق نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کے ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی اور عوامی مسائل کا موثر انداز میں حل مشکل ہوتا جارہا ہے۔ایم کیو ایم نے خصوصاً سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے اس معاملے پر وسیع تر قومی مکالمہ شروع کرنے اور آئینی و قانونی فورمز سے بھی رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق کراچی میں پارٹی رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ صوبوں کی تشکیل کے تاریخی پس منظر اور موجودہ انتظامی ضرورت کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا،ملک کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے لیکن اس کے مقابلے میں صوبائی سطح پر انتظامی یونٹس میں مناسب اضافہ نہیں کیا گیا۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 1947 میں پاکستان کی آبادی تقریباً ڈھائی سے تین کروڑ تھی جبکہ آج آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے،اس دوران ملک میں اضلاع اور ڈویژن کی تعداد میں اضافہ ہوا لیکن نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر کوئی سنجیدہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم مسلسل اس موقف کو سامنے لاتی رہی ہے کہ اختیارات اور وسائل عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے انتظامی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات ضروری ہیں،ہماری پارٹی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کے لیے تیار ہے اور نئے صوبوں کے قیام کو کسی ایک جماعت کا سیاسی ایجنڈا نہیں بلکہ قومی ضرورت سمجھتی ہے۔
ایم کیو ایم کے چیئرمین نے کہا کہ جہاں جہاں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی آواز اٹھ رہی ہے،ان کی جماعت اصولی طور پر اس کی حمایت کرے گی،ہزارہ، جنوبی پنجاب،بہاولپور اور دیگر علاقوں میں اٹھنے والے انتظامی مطالبات پر بھی قومی سطح پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے اس معاملے پر ماضی میں آئینی ترمیم کے ذریعے حل نکالنے کی کوشش کی تاہم مطلوبہ پیش رفت نہ ہونے کے بعد عدالت سے بھی رجوع کیا گیا۔انہوں نے اعلان کیا کہ آرٹیکل 140 اے پر عمل درآمد نہ ہونے اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے معاملے پر پارٹی ایک بار پھر سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اختیارات عوام تک پہنچانا ہی حقیقی جمہوریت ہے اور اگر آئین میں نئے صوبوں کے قیام کی گنجائش موجود ہے تو اس مطالبے کو غیر آئینی یا غیر ضروری قرار نہیں دیا جاسکتا،اگر صوبے بنانے کا مطالبہ غلط سمجھا جاتا ہے تو آئین میں موجود متعلقہ شقوں پر بھی قومی سطح پر غور ہونا چاہیے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے 18ویں ترمیم سے متعلق بعض فیصلوں پر اس امید کے ساتھ حمایت کی تھی کہ آرٹیکل 140 اے کے ذریعے اختیارات اور وسائل مقامی حکومتوں تک منتقل ہوں گے،اس آئینی شق کے ثمرات آج تک عام شہریوں تک مطلوبہ انداز میں نہیں پہنچ سکے،اسی لیے اس پر عمل درآمد کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سیاسی جماعتوں سے اس معاملے پر بات چیت کی جائے گی اور ایک وسیع قومی ڈائیلاگ شروع کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے اتفاقِ رائے پیدا ہوسکے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم رہنما سید مصطفی کمال نے کہا کہ موجودہ نظام عوام کو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں دشواری کا سامنا کرنے پر مجبور کررہا ہے،نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے نہ صرف شہری علاقوں بلکہ دیہی آبادی کو بھی اختیارات،وسائل اور بہتر حکمرانی کی سہولت مل سکتی ہے۔مصطفی کمال نے سندھ کی مالی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کو وفاق سے بڑی مقدار میں مالی وسائل موصول ہوتے ہیں تاہم اس کے باوجود صوبے کے کئی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی صورتحال تشویشناک ہے۔ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے وسائل کی تقسیم اور عوامی نگرانی بہتر ہوسکتی ہے۔انہوں نے سندھ میں پانی،سڑکوں، صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کئی دور دراز علاقوں میں شہریوں کو بنیادی ضروریات کے حصول میں مشکلات درپیش ہیں،انتظامی اختیارات کو مقامی سطح تک منتقل کیے بغیر ایسے مسائل کا پائیدار حل ممکن نہیں۔
مصطفی کمال نے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے مختلف علاقوں کی مخصوص ضروریات ہیں جن کے لیے مقامی سطح پر بااختیار انتظامی ڈھانچہ ضروری ہے،سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام کسی لسانی یا نسلی تقسیم کا منصوبہ نہیں بلکہ وسائل اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کا بڑا معاشی مرکز ہے اور قومی معیشت میں اس کا کردار انتہائی اہم ہے،اس لیے شہر کے انتظامی اور بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے موثر انتظامی نظام ضروری ہے۔مصطفی کمال نے دعویٰ کیا کہ سندھ میں طویل عرصے سے ایک ہی سیاسی جماعت کی حکومت ہونے کے باوجود شہری سہولیات اور گورننس کے مسائل حل نہیں ہو سکے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے کے وسائل اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے اور مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات دیے جائیں۔ایم کیو ایم کے رہنما نے مزید کہا کہ نئے انتظامی یونٹس بننے کی صورت میں متعلقہ علاقوں کے عوام کو اپنے مسائل کے حل میں زیادہ موثر کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ان کے مطابق کراچی،حیدرآباد،سکھر،میرپورخاص اور دیگر علاقوں کے انتظامی معاملات کو مقامی ضروریات کے مطابق بہتر انداز میں چلایا جاسکے گا۔
اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان میں مزید انتظامی یونٹس کے قیام کے بغیر طویل مدت میں موثر حکمرانی اور قومی استحکام کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہو گا،کراچی ملک کے لیے بڑے پیمانے پر محصولات پیدا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود شہر کو بنیادی انفراسٹرکچر اور شہری سہولتوں کے حوالے سے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔فاروق ستار نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کو کسی مخصوص طبقے یا علاقے کے خلاف اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ وسائل،اختیارات اور انتظامی ذمہ داریوں کی تقسیم کا معاملہ ہے،مختلف خطوں کے مقامی نمائندوں کو اپنے علاقوں کے انتظامی اور ترقیاتی معاملات میں زیادہ اختیار ملنا چاہیے۔فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم سندھ سمیت ملک بھر میں انتظامی اصلاحات کی حمایت کرتی ہے اور نئے صوبوں یا یونٹس کے قیام کی تحریک میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی،اگر موجودہ نظام میں بنیادی تبدیلیاں نہ کی گئیں تو عوامی مسائل اور حکمرانی کا بحران مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ایم کیو ایم رہنماوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ کسی مخصوص سیاسی جماعت کے خلاف مہم نہیں بلکہ ان کے بقول بہتر طرزِ حکمرانی،اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور عوامی مسائل کے موثر حل سے متعلق ہے۔پارٹی نے اس معاملے پر سیاسی جماعتوں،آئینی اداروں اور دیگر سٹیک ہولڈرز سے مکالمہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔