لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)صوبائی دارالحکومت لاہور میں جاری مون سون بارشوں نے جہاں معمولاتِ زندگی متاثر کیے ہیں وہیں خستہ حال عمارتوں کی موجودگی نے ایک سنگین شہری بحران کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔حالیہ ہفتوں کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں چھتیں گرنے کے پے در پے واقعات نے انسانی جانوں کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے،جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں۔یہ واقعات نہ صرف موسمی شدت کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ شہری ڈھانچے کی کمزوری،تعمیراتی بے ضابطگیوں اور متعلقہ اداروں کی ممکنہ غفلت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق بارشیں وقتی عنصر ہو سکتی ہیں مگر کمزور عمارتیں اور ناقص نگرانی اس بحران کو ایک مستقل خطرے میں تبدیل کر رہی ہیں،جس کے فوری اور موثر تدارک کی ضرورت ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور میں جاری مون سون بارشیں جہاں موسم کی شدت میں اضافہ کر رہی ہیں وہیں خستہ حال عمارتیں شہریوں کے لیے جان لیوا خطرہ بن چکی ہیں۔گزشتہ ایک ماہ کے دوران مختلف علاقوں میں چھتیں گرنے کے کم از کم چار بڑے واقعات میں 29 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہوئے،جس نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
تازہ ترین اور انتہائی افسوسناک واقعہ باغبانپورہ کے علاقے کوٹلی پیر عبدالرحمان میں پیش آیا،جہاں تین منزلہ مکان کی چھت اچانک زمین بوس ہو گئی۔حادثے کے وقت مکان میں سالگرہ کی تقریب جاری تھی،جو لمحوں میں خوشی سے ماتم میں بدل گئی۔ملبے تلے دب کر 11 افراد جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہو گئے۔ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے لاشوں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا۔اس سے قبل بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایسے ہی دلخراش واقعات رونما ہو چکے ہیں۔30 جون کو کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوئے جبکہ 25 جولائی کو گڑھی شاہو میں ایک ہی خاندان کے تین افراد ملبے تلے دب کر زندگی کی بازی ہار گئے۔شالیمار روڈ اور دیگر علاقوں میں بھی بارش کے باعث کمزور چھتیں گرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے،جو اس خطرناک رجحان کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق حالیہ واقعے میں جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں،جنہیں ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔میو اور سروسز ہسپتال انتظامیہ نے تصدیق کی کہ زیادہ تر متاثرین کی حالت انتہائی تشویشناک تھی اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔ان واقعات نے شہر میں موجود بوسیدہ اور غیر محفوظ عمارتوں کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر خطرناک عمارتوں کے سروے کا آغاز کرتے ہوئے مالکان کو وارننگ جاری کی ہے اور شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ بارش کے دوران خستہ حال عمارتوں سے دور رہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔تاہم زمینی حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ محض ہدایات اور بیانات اس بڑھتے ہوئے خطرے کا سدباب کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ماہرین کے مطابق شہر میں عمارتوں کی بروقت مرمت،تعمیراتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور موثر نگرانی کے بغیر ایسے سانحات کا سلسلہ رکنا مشکل ہے۔مون سون کی بارشیں وقتی ہیں مگر ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ شہری سلامتی کو محض وقتی اقدامات کے بجائے مستقل پالیسی کا حصہ بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی خوشی کا موقع ایک اور سانحے میں تبدیل نہ ہو۔