Home » مجتبیٰ خامنہ ای کا رئیسی کی برسی پر امریکا اور اسرائیل کو کھلا چیلنج،نیا سخت موقف سامنے آگیا

مجتبیٰ خامنہ ای کا رئیسی کی برسی پر امریکا اور اسرائیل کو کھلا چیلنج،نیا سخت موقف سامنے آگیا

by ahmedportugal
12 views
A+A-
Reset

تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے سابق صدر ابراہیم رئیسی کی برسی کے موقع پر جاری بیان میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف سخت موقف ایک بار پھر نمایاں ہو گیا ہے،جس میں قومی اتحاد،مزاحمتی پالیسی اور ریاستی استحکام کو بنیادی ترجیحات قرار دیا گیا ہے۔بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کو داخلی و خارجی چیلنجز کا سامنا ہے اور ان سے نمٹنے کے لیے قیادت اور عوام کو یکجا ہو کر آگے بڑھنا ہو گا جبکہ کسی بھی بیرونی دباو یا دھمکی کو خاطر میں نہ لانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے جاری تازہ بیان میں خطے کی صورتحال اور عالمی طاقتوں کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں سخت اور دوٹوک موقف اپنایا گیا ہے،جس میں قومی اتحاد،معاشی استحکام اور مزاحمتی پالیسی کو ریاستی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ یہ پیغام سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی برسی کے موقع پر جاری کیا گیا،جس میں انہیں عوامی خدمت اور مزاحمتی سیاست کی علامت قرار دیتے ہوئے ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اس وقت نہایت حساس مرحلے سے گزر رہا ہے اور اسے مختلف داخلی و خارجی چیلنجز کا سامنا ہے،جن سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں اور عوام پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔قیادت کے مطابق موجودہ حالات میں اتحاد اور استحکام ہی ملک کی بنیادی ضرورت ہے۔

مزید کہا گیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور سرزمین کے دفاع کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کے لیے تیار ہے اور کسی بھی بیرونی دباو یا دھمکی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔بیان میں عالمی طاقتوں کی پالیسیوں پر بھی سخت تنقید کی گئی اور خطے میں جاری کشیدگی کو غیر منصفانہ رویوں کا نتیجہ قرار دیا گیا۔سابق صدر ابراہیم رئیسی کے 19 مئی 2024 کو ہونے والے ہیلی کاپٹر حادثے کو بھی یاد کیا گیا،جس میں وہ دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ جاں بحق ہوئے تھے۔سرکاری تحقیقات کے مطابق یہ حادثہ خراب موسم کے باعث پیش آیا تھا تاہم اس واقعے نے ایرانی سیاست اور قیادت کے تسلسل پر گہرے اثرات ڈالے۔نئے رہنما سے متعلق مختلف قیاس آرائیوں کے باوجود حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں جبکہ بعض بیانات کو سرکاری سطح پر پڑھ کر سنایا جاتا ہے۔اس صورتحال نے داخلی اور خارجی حلقوں میں ایران کی قیادت کے مستقبل اور پالیسی سمت پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز