Home » موجودہ نظام تباہ ہوچکا،نئے صوبے ناگزیر،محسن نقوی کا انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی پر زور

موجودہ نظام تباہ ہوچکا،نئے صوبے ناگزیر،محسن نقوی کا انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی پر زور

by ahmedportugal
13 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک کو درپیش انتظامی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے نئے انتظامی یونٹس اور ممکنہ طور پر نئے صوبوں کے قیام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور بنیادی اصلاحات کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسلام آباد میں پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ وہ عموماً سیاسی گفتگو سے گریز کرتے ہیں تاہم موجودہ حالات کے تناظر میں کچھ حقائق بیان کرنا ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس نظام کے تحت ملک چل رہا ہے وہ شدید مشکلات کا شکار ہے اور اگر اسی انداز میں معاملات جاری رہے تو 10 سال بعد بھی یہی مسائل بتا رہے ہوں گے،جمہوریت میں بھی تین چار قسم کے نظام ہین لیکن بضد ہیں ایک ہی نظام گھسیٹنا ہے،نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی ضرورت ہے لیکن حقیقی بہتری اسی وقت آئے گی جب اختیارات اور سہولیات عوام کی دہلیز تک پہنچیں گی۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک کی بنیادی ساخت کو درست کیے بغیر ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا،سوال یہ ہے کہ ان مسائل کو کون حل کرے گا اور اس کا جواب اجتماعی فیصلوں اور سنجیدہ اصلاحات میں ہے،ہر سال قرضہ بڑھتا جا رہا ہے،آپ 14 سے 16 گھنٹے کام کرنے والا وزیراعظم بھی لے آئیں،جو مرضی کر لیں،جب تک اس سسٹم کو ری سیٹ نہیں کریں گے،کچھ ٹھیک نہیں ہو گا،تمام سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھنا پڑے گا،ان کو نئے یونٹس بنانے سے لے کر ملک کا ایک ایک مسئلہ حل کرنا پڑے گا،جب تک یہ اکٹھے نہیں بیٹھیں گے،یہ ملک اسی حالت میں رہے گا،نئے انتظامی یونٹس ہوں یا صوبوں کا قیام،اب اس سمت میں سوچنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو عوام کے سامنے لے جانا چاہیے کیونکہ بڑے فیصلے عوامی شمولیت اور اتفاق رائے سے ہی کامیاب ہو سکتے ہیں،پاکستان کے عوام کی رائے لی جائے،اگر وہ چاہتے ہیں کہ نئے انتظامی یونٹس بنائے جائیں تو بنا دیں،اگر وہ کہتے ہیں نہیں،تو نہ بنائیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے نوجوانوں کے مسائل پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان میرٹ پر روزگار اور اپنے حقوق چاہتے ہیں،اگر نوجوان متحد ہو کر اپنے مسائل کے لیے آواز اٹھائیں تو وہ بڑی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔محسن نقوی نے کہا کہ کوئی بھی ملک ایسے نہیں چل سکتا جہاں عام گھرانے مسلسل مالی دباو کا شکار ہوں اور ریاستی نظام بھی قرضوں کے بوجھ تلے دبا رہے،موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ مشکل فیصلے کیے جائیں۔انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم طویل وقت کام کر رہے ہیں لیکن موجودہ حالات میں حکومتیں زیادہ تر بحرانوں سے نمٹنے یعنی فائر فائٹنگ میں مصروف رہتی ہیں، جبکہ مستقل حل کے لیے بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔محسن نقوی نے تمام سیاسی جماعتوں کو ملک کے مستقبل کے لیے ایک میز پر بیٹھنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ چاہے یہ مشاورت ایک دن،ایک ماہ یا ایک سال جاری رہے لیکن قومی مسائل کے حل کے لیے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا،نئے صوبوں،انتظامی اصلاحات اور دیگر اہم معاملات پر مل بیٹھ کر فیصلے کرنے ہوں گے،کیونکہ اجتماعی سوچ اور مشترکہ حکمت عملی کے بغیر ملک موجودہ چیلنجز سے باہر نہیں نکل سکتا۔انہوں نے کہا کہ ایک بندہ سب کچھ لا کر پلیٹ میں رکھ رہا ہے،کوئی ریڈ لائن ہے جو وہ شخص کراس نہیں کرنا چاہتا،وہ کہتا ہے اسی سسٹم میں ہو اور ٹھیک ہو،اب سب کا فرض ہے کہ مل کر نظام کو ری سیٹ کریں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز