آج مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی سیاست،عالمی معیشت کے نئے امکانات،نوجوان نسل کی بڑھتی ہوئی امنگوں اور مستقبل سازی کے بڑھتے ہوئے مباحثے کے درمیان محمد بن سلمان کا نام بار بار سنائی دیتا ہے۔کچھ لوگ وقت کے دھارے کے ساتھ بہتے رہتے ہیں جبکہ کچھ اس کا رخ موڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔دنیا کے نقشے اور سیاست میں ہزاروں حکمران،سیاست دان،بااثر شخصیات نظر آتی ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ اور سیاست کو تبدیل کرسکنے کی سعی رکھتے ہیں۔آج افق پر ایک ستارہ چمک رہا ہے جو ولی عہد شہزادہ وزیر اعظم سعودی عرب محمدسلمان بن عبدالعزیز ہیں۔یہ صرف ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک ایسے دور کی علامت ہیں جس میں سعودی عرب اپنی مضبوط شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو رہا ہے۔ولی عہد وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنی متحرک اور حقیقت پسندانہ سفارت کاری کے ذریعے عالمی سیاست میں مملکت کے کردار کو ایک نئے اور مثبت رخ پر استوار کیا ہے۔انہوں نے سعودی عرب کو صرف ایک تیل پیدا کرنے والے ملک کے بجائے بین الاقوامی امن،سلامتی اور اقتصادی تعاون کا ایک بڑا مرکز بنا دیا ہے۔اپنی مدبرانہ سوچ سے بین الاقوامی ثالثی اور تنازعات میں اہم کردار کے حوالے سے انہوں نے یوکرین اور روس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور امن مذاکرات کے لیے کامیاب ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔اس کے علاوہ،خطے میں کشیدگی کم کرنے اور یمن و سوڈان جیسے ممالک میں سیاسی استحکام کے لیے ان کی کوششیں نمایاں ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کو نیا یورپ بنانے کے وژن کے تحت پڑوسی اور عالمی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔چین کی ثالثی میں ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی اس کی ایک بڑی مثال ہے،جس سے پورے خطے میں جنگ کے بادل چھٹ گئے۔ولی عہد نے عالمی اقتصادی نظام کو سہارا دینے،ترقی پذیر ممالک کے قرضوں میں نرمی لانے اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے جی-20 (G20) فورم پر سعودی عرب کی قیادت کو موثر انداز میں پیش کیا ہے۔آج جب دنیا اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے جائزناجائزطریقے استعمال کرتی ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان کی خارجہ پالیسی تصادم کے بجائے تعاون،اقتصادی شراکت داری اور انسانی فلاح پر مبنی ہے، جو عالمی برادری میں امن اور توازن کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔انہوں نے انقلابی وژن 2030 متعارف کرایا جس نے سعودی عرب کی معاشی، سماجی رونقوں کو روشن کیا ہے اور سعودی عرب کی معیشت کو یکسر بدل دیا ہے،سعودی عرب کی معیشت کو تیل کے انحصار کو ختم کرنے کاعندیہ دیا ہے۔معاشی تنوع (Economic Diversification)کے حوالے سے انہوں نے تفریح، سیاحت،ٹیکنالوجی اور مائننگ (Mining) جیسے نئے شعبوں کو کھولا ہے،جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
سعودی عرب کے خود مختار فنڈ (PIF)کو دنیا کے سب سے بڑے انویسمنٹ فنڈ میں شامل کیا ہے جو دنیا بھر کے بڑے اداروں اور منصوبوں میں اربوں ڈالر سرمایہ کاری کررہا ہے۔عالمی میگا پروجیکٹس: نیوم (NEOM) سٹی،دی لائن (The Line) اور ریڈ سی (Red Sea جیسے مستقبل کے انقلابی منصوبوں کی بنیاد رکھی، جو عالمی کاروبار اور سیاحت کے بڑے مراکز بن رہے ہیں۔خواتین کو سرکاری اور نجی شعبوں میں مواقع فراہم کئے انکی ولولہ انگیز قیادت نے پاکستان کے دیرینہ دوست اورمذہبی بھائی کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ سٹرٹیجکٹ اور مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل کر دیا ہے۔ اگر پاکستان حکومت کرپشن پر قابو پالے تو وہ سعودی عرب کو مثال بناکر پاکستان کو بھی امن، معاشی خوشحالی کا گہوارہ بنا سکتا ہے ،سعودی عرب ولی عہد کی قیادت میں تمام اہم اداروں کو کرپشن سے پاک کرنے کے اقدامات کرتا رہتا ہے اور سعودی معاشرے کو کرپشن سے پاک کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ پاکستان کے عوام،حکومت سعودی عرب کے ساتھ دوستی پر فخر کرتے ہیں، پاکستان کے مشکل معاشی حالات میں سعودی عرب نے ہمیشہ سٹیٹ بینک آف پاکستان میں اربوں ڈالر کے ڈپازٹس رکھوائے اور موخر ادائیگیوں پر تیل فراہم کیا،جس سے پاکستان کو معاشی استحکام ملا اورپاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کی۔
سعودی ولی عہد نے پاکستان کے مختلف شعبوں، بالخصوص توانائی (Energy)، ریفائنری اور زراعت (SIFC کے تحت) میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کیے ہیں۔ سعودی عرب کے پرامن ماحول میں لاکھوں پاکستانی برسرِروزگار ہیں۔ وژن 2030 کے میگا پروجیکٹس میں پاکستانی انجینئرز اور ہنرمندوں کو ترجیح دی جا رہی ہے،جو پاکستان کو زرمبادلہ (Remittances بھیجنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ اہم معاہدوں پر مثبت عمل درآمد کیلئے اورپاک سعودی کے درمیان تعلقات کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے ”سعودی پاک سپریم کوآرڈینیشن کونسل“ قائم کی گئی،جس کی نگرانی خود محمد بن سلمان کرتے ہیں تاکہ تمام معاہدوں پر تیزی سے کام ہو سکے۔پاکستانیوں کو خوشی ہے کہ محمد بن سلمان کا وژن نہ صرف سعودی عرب کو ایک عالمی معاشی قوت بنا رہا ہے بلکہ وہ پاکستان کی معاشی ترقی اور استحکام کے لیے بھی ایک مضبوط اور قابل اعتماد دوست ثابت ہوئے ہیں۔
سعودی عرب کی جدید وخوبصورت شاہراہوں پر اعتماد سے بھرپور نوجوانوں کے چہروں کو دیکھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ مملکت میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض تعمیر و ترقی کا عمل نہیں بلکہ ایک نئی سوچ اور نئے وژن کی تشکیل ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان کے تجربے کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ یہی تصور ان کے سیاسی وژن کا بنیادی نکتہ ہے۔انہوں نے سعودی عرب کو صرف اس کے موجودہ حالات کے تناظر میں نہیں دیکھا بلکہ آنے والی دہائیوں کے امکانات کے زاویے سے بھی پرکھا۔انکی مدبرآنہ قیادت نے ایک ایسے سفر کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد صرف معیشت کو متنوع بنانا نہیں بلکہ قومی اعتماد کی ایک نئی بنیاد قائم کرنا بھی تھا۔آج دنیا مصنوعی ذہانت،ڈیجیٹل معیشت،نئی توانائی، عالمی سرمایہ کاری اور تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے۔ایسے ماحول میں وہی ممالک ترقی کر سکتے ہیں جو مستقبل کی زبان سمجھتے ہوں۔
او آئی سی کے اسسٹینٹ سیکریٹری برائے ٹیکنالوجی آفتاب احمد کھوکر کے مطابق ٹیکنالوجی نے جو ترقی سعودی عرب نے کی ہے ،باقی دنیا ابھی وہاں نہیں پہنچی،انکا یہ بیان سعودی عوام اور یہاں مقیم غیر ملکیوں کو نظر بھی آتا ہے،آج بین الاقوامی فورمز میں سعودی عرب کی موجودگی،عالمی اقتصادی مباحثے میں اس کا کردار اور دنیا کے مختلف خطوں کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے تعلقات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مملکت ایک وسیع تر عالمی کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔اس تناظر میں محمد بن سلمان کو صرف ایک قومی رہنما کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو اپنے ملک کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر موثر موجودگی میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے نوجوانوں کے خوابوں کو قومی منصوبوں سے جوڑنے،استحکام کو ترقی کی بنیاد بنانے اور عالمی سطح پر سعودی عرب کی موجودگی کو مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کئے ہیں۔