لندن(ایگزو نیوز ڈیسک)برطانوی اخبار کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو غیر ملکی دوروں کے دوران ملنے والے اعزازات ایک بار پھر تنازع کا شکار ہو گئے ہیں،جس نے نہ صرف بھارت کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق معروف برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کو ملنے والے بعض اعزازات نہ صرف ان کے دوروں سے عین قبل متعارف کرائے گئے بلکہ ان کی تیاری اور دستاویزی تفصیلات میں بھی بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق سیشلز کے حالیہ دورے کے دوران مودی کو دیا جانے والا ’گارڈین آف دی بلیو ہورائزن‘ اعزاز ان کی آمد سے محض چند روز قبل تخلیق کیا گیا اور وہ اس کے پہلے وصول کنندہ قرار پائے۔ مزید برآں،اس اعزاز کے سرٹیفکیٹ میں املا کی غلطیاں بھی پائی گئیں جبکہ بعض تجزیاتی ٹولز کے مطابق اس دستاویز کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا امکان بھی ظاہر کیا گیا تاہم اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
سیشلز کی وزارت خارجہ نے ان الزامات کی وضاحت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش سرٹیفکیٹ دراصل ایک ابتدائی مسودہ تھا جو غلطی سے جاری ہو گیا جبکہ بعد ازاں درست اور منظور شدہ سرٹیفکیٹ فراہم کر دیا گیا۔وزارت نے اس اعزاز کی حیثیت کو مکمل طور پر مستند قرار دیا ہے۔دوسری جانب بھارتی اپوزیشن نے اس معاملے کو سیاسی تنقید کا محور بناتے ہوئے وزیراعظم مودی کی پالیسیوں اور طرزِ سفارت کاری پر سوالات اٹھائے ہیں۔اپوزیشن رہنماوں کا کہنا ہے کہ ان اعزازات کے اجرا کے طریقہ کار اور وقت نے ان کی شفافیت پر شکوک پیدا کر دیے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ ماضی میں بھی مودی کو ملنے والے بعض اعزازات،جیسے اسرائیل میں متعارف کرایا گیا ایک خصوصی میڈل اور فلپ کوٹلر صدارتی ایوارڈ، کے حوالے سے اسی نوعیت کے سوالات سامنے آ چکے ہیں، جہاں وہ ابتدائی یا واحد وصول کنندہ رہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعزازات دراصل وزیراعظم مودی کی عالمی سطح پر قائدانہ صلاحیتوں،سفارتی سرگرمیوں اور ماحولیاتی و ترقیاتی اقدامات کے اعتراف کا اظہار ہیں اور انہیں متنازع بنانے کی کوششیں سیاسی مقاصد کے تحت کی جا رہی ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کے اعزازات اور ان کے اجرا کے وقت نے نہ صرف ان کی ساکھ پر سوالات کھڑے کیے ہیں بلکہ اس بحث کو بھی جنم دیا ہے کہ آیا یہ اعزازات حقیقی سفارتی کامیابیوں کی عکاسی کرتے ہیں یا محض تاثر سازی کا حصہ ہیں۔ رپورٹ کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر عالمی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں زیر بحث آ گیا ہے،جس کے اثرات مستقبل کی سفارتی سرگرمیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔