کویت(ایگزو نیوز ڈیسک)خلیجی خطہ ایک خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے جہاں ایران کی جانب سے کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنائے جانے کے بعد صورتحال شدید کشیدہ ہو گئی ہے۔حملوں میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں زخمی ہونے کے ساتھ فضائی آپریشن مکمل طور پر معطل کر دیا گیا جبکہ اس پیش رفت نے نہ صرف کویت بلکہ پورے خطے کو ممکنہ جنگی بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن فوری طور پر معطل کر دیا گیا جبکہ حملوں کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 60 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔حملوں میں ہوائی اڈے کی عمارت کے ساتھ قریبی سفارتی مشنز کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں،جس کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔کویتی وزارتِ خارجہ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو ”وحشیانہ اور مسلسل جارحیت“ قرار دیا اور کہا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔بیان کے مطابق حملوں میں کم از کم 63 افراد زخمی ہوئے اور اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا،جس پر کویت نے اپنے دفاع کے حق کو محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے الزامات کو اپنے موقف کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کی اصل وجہ امریکی کارروائیاں ہیں،جن میں کویت اور بحرین کی سرزمین استعمال کی گئی۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکا نے جنگ بندی معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی جبکہ کویت اور بحرین ان کارروائیوں میں معاونت کے باعث ذمہ دار ہیں۔ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے اور مستقبل میں کسی بھی ایسے مرکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جہاں سے ان کے خلاف کارروائیاں کی جائیں۔اس صورتحال نے نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔