میر پور(ایگزو نیوز ڈیسک)آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026 کے پہلے مرحلے کے بعد میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے، جہاں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج نے سیاسی مقابلے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ابتدائی نتائج کے مطابق بعض نشستوں پر مسلم لیگ ن کو برتری حاصل ہے جبکہ کئی حلقوں میں پیپلز پارٹی کے امیدوار آگے ہیں،جس کے باعث دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026 کے پہلے مرحلے کے تحت میرپور ڈویژن کے 13 انتخابی حلقوں میں پولنگ مکمل ہونے کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں،جس کے ساتھ ہی سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے اور مختلف حلقوں میں مقابلہ انتہائی دلچسپ صورت اختیار کر گیا ہے۔چیف الیکشن کمشنر میرپور کی ہدایت پر پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھایا گیا،جس کے بعد ووٹنگ کا عمل شام 6 بجے تک بلا تعطل جاری رہا۔ابتدائی نتائج کے مطابق بعض حلقوں میں مسلم لیگ ن کو برتری حاصل ہے جبکہ کئی نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے،جس سے واضح ہوتا ہے کہ میرپور ڈویژن میں مقابلہ یکطرفہ نہیں بلکہ انتہائی سخت اور متوازن ہے۔
حلقہ ایل اے 1 میرپور میں محدود پولنگ سٹیشنز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے امیدوار کو ابتدائی برتری حاصل ہے جبکہ ایل اے 2 اور ایل اے 3 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار نمایاں طور پر آگے ہیں۔اسی طرح ایل اے 4 میں ن لیگ نے برتری حاصل کی ہے جبکہ ایل اے 5 میں ابتدائی نتائج پیپلز پارٹی کے حق میں جا رہے ہیں۔ایل اے 6 اور ایل اے 7 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار آگے ہیں،جہاں بھمبر کے حلقے میں بھی ن لیگ کو سبقت حاصل ہے۔دوسری جانب ایل اے 8 میں پیپلز پارٹی آگے ہے جبکہ ایل اے 9 اور ایل اے 10 میں بھی پیپلز پارٹی کو ابتدائی برتری حاصل ہے۔ایل اے 12 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار آگے ہیں جبکہ ایل اے 13 میں مسلم لیگ ن پہلے نمبر پر ہے،جہاں استحکام پاکستان پارٹی اور پیپلز پارٹی کے امیدوار بھی سخت مقابلہ کر رہے ہیں۔
مجموعی طور پر مختلف حلقوں میں سیاسی جماعتوں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ جاری ہے جبکہ آزاد امیدوار بھی کئی نشستوں پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں ہیں۔میرپور ڈویژن میں مجموعی طور پر 14 لاکھ 437 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،جن میں 7 لاکھ 24 ہزار 811 مرد اور 6 لاکھ 75 ہزار 626 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔انتخابی عمل کے لیے 2 ہزار 316 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے تھے،جن میں سے 1241 کو انتہائی حساس اور 724 کو حساس قرار دیا گیا تھا۔سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت 18 ہزار 560 اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ پاک فوج کے 2100 جوان بھی ڈیوٹی پر مامور رہے تاکہ انتخابی عمل کو پرامن اور شفاف بنایا جا سکے۔ابتدائی نتائج کے بعد سیاسی حلقوں میں بے چینی اور جوش و خروش بڑھ گیا ہے جبکہ حتمی نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے جو آئندہ سیاسی منظرنامے کا تعین کریں گے۔