کوئٹہ(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفرازاحمد بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، دو فیصد گمراہ لوگ پورے بلوچستان کی نمائندگی نہیں کرتے، دشمن خطے میں خانہ جنگی چاہتا ہے جسے مل کر ناکام بنائیں گے،معرکہ حق نے بھارت کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیئے ہیں ۔
ایگزو نیوز کے مطابق کوئٹہ میں قومی استحکام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ میر سرفراز احمد بگٹی کا کہنا تھا کہ قوم اس وقت معرکہ حق میں عظیم فتح پر خوشیاں منا رہی ہے، پاکستان نے اس معرکے میں بھارت کے تکبر کو خاک میں ملا دیا ہے، جو لوگ پاکستان کو توڑنے کی بات کرتے ہیں، انہیں معرکہ حق میں اپنا انجام نظر آ چکا ہے،بلوچ روایات کے مطابق کبھی کسی مسافر کو نقصان نہیں پہنچایا گیا، دہشت گردی میں صرف شدت پسند ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت قبائلی عمائدین نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا اور آج بھی ہماری شناخت صرف پاکستان ہے، 14 اگست 1947 کے بعد ہماری پہچان پاکستان ہے اور میری اپنی پہلی شناخت پاکستانیت ہے، اس کے بعد بلوچ ہوں۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جہاں دشمن عناصر صوبے میں خانہ جنگی کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں، بلوچستان کے عوام کو ملک سے دور کرنے کی منظم سازش کی جا رہی ہے، ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت صوبے کے نوجوانوں کو ورغلایا جا رہا ہے تاکہ بلوچستان کو کمزور کیا جا سکے مگر ہم ایسی تمام سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، جو شخص ریاست کے خلاف بندوق اٹھائے، اس سے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے تاہم امن کے لیے وہ ہر سطح پر بات چیت کے حامی ہیں، غیر متوازن ترقی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے لیکن یہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں بلکہ ملک کے دیگر حصے بھی اس سے متاثر ہیں، بلوچستان میں مذہبی ہم آہنگی اور اقلیتوں کے درمیان اتحاد دوسرے صوبوں کے لیے ایک مثال ہے،امن و امان کے قیام میں علمائے کرام کا کردار قابل ستائش ہے، دو فیصد گمراہ لوگ پورے بلوچستان کی نمائندگی نہیں کرتے۔
دہشت گردی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں،دشمن عناصر صوبے میں خانہ جنگی چاہتے،ناکامی ان کا مقدر،وزیر اعلیٰ بلوچستان کا ملک دشمنوں کو واضح پیغام
14