کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)شہر قائد کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا علی کی پراسرار موت کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے موبائل فون ڈیٹا اور مالی معاملات کی چھان بین کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں کروڑوں روپے کے لین دین، قرضوں اور مختلف افراد سے روابط کے پہلو سامنے آنے کے بعد 18 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے، جبکہ پولیس واقعے کو قتل یا خودکشی سمیت تمام ممکنہ زاویوں سے دیکھ رہی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا علی کی پراسرار موت کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے مقتول کے موبائل فون کا ڈیٹا حاصل کر کے آخری رابطوں، پیغامات اور مالی معاملات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں میر رضا کے مختلف افراد سے مالی لین دین اور قرضوں کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد کیس کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق موبائل ڈیٹا کے ابتدائی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ 28 جولائی کی رات میر رضا نے اپنے ایک قریبی دوست کو پیغام بھیج کر تین کروڑ روپے ادھار دینے کی درخواست کی تھی۔ حکام کے مطابق پیغام میں میر رضا نے خود کو مشکل صورتحال میں ظاہر کرتے ہوئے فوری مالی مدد کی ضرورت کا اظہار کیا تھا۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی رات میر رضا کی منگیتر کی جانب سے بھی انہیں متعدد پیغامات بھیجے گئے، تاہم ان کی طرف سے کسی پیغام کا جواب نہیں دیا گیا۔ پولیس ان تمام رابطوں اور پیغامات کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے تاکہ واقعے سے قبل کی صورتحال کو سمجھا جا سکے۔ پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا ہے کہ میر رضا مختلف افراد کا مقروض تھا۔ اسی بنیاد پر پولیس نے ان تمام افراد کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا جن کے ساتھ مقتول کے مالی معاملات موجود تھے۔حکام کے مطابق اب تک 18 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا جا چکا ہے جبکہ آن لائن ٹیکسی ڈرائیور سمیت 15 سے زائد افراد کے بیانات بھی قلم بند کیے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زیر تفتیش افراد سے مالی معاملات، رابطوں اور واقعے سے متعلق ممکنہ معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔تفتیشی ذرائع کے مطابق دو بھائیوں سمیت آٹھ افراد پر میر رضا کی رقم واجب الادا تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بعض افراد پر کروڑوں روپے جبکہ دیگر پر لاکھوں روپے کے مالی واجبات تھے، جس کے باعث ان تمام پہلوو¿ں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔پولیس کے مطابق زیر حراست افراد میں سے چھ افراد کا تعلق ایک مہمان خانے سے ہے، جبکہ جائے وقوعہ کے قریب موجود رہنے والے بعض افراد کو بھی تحقیقات میں شامل کیا گیا ہے تاکہ واقعے کے وقت کی صورتحال اور ممکنہ شواہد سامنے لائے جا سکیں۔دوسری جانب میر رضا کی پراسرار موت کے معاملے میں نئی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جسے پولیس اہم شواہد میں شامل کر رہی ہے۔ پولیس کے مطابق فوٹیج میں میر رضا کو اپنی جیب سے ایک روشن چیز نکال کر سڑک کنارے پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، ابتدائی طور پر یہ چیز موبائل فون معلوم ہو رہی ہے۔پولیس حکام کے مطابق ایک شہری نے بعد ازاں متعلقہ موبائل فون ملنے کی اطلاع دی اور اس مقام کی نشاندہی کی جہاں سے فون برآمد ہوا۔ پولیس نے موبائل فون کا فرانزک معائنہ شروع کر دیا ہے تاکہ اس میں موجود ڈیجیٹل معلومات، رابطوں اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا سکے۔میر رضا کی موت کے حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ حتمی طور پر طے نہیں کیا جا سکا کہ واقعہ خودکشی تھا یا قتل۔ تحقیقات میں فرانزک رپورٹس، موبائل ڈیٹا، مالی معاملات اور دیگر شواہد کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔تفتیشی حکام کے مطابق میر رضا کی مکمل میڈیکل رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی۔ ابتدائی رپورٹ میں موت کی وجہ گولی لگنا بتائی گئی تھی، تاہم اہل خانہ نے جسم پر تشدد اور جلنے کے نشانات کا حوالہ دیتے ہوئے ابتدائی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔یاد رہے کہ آئی بی اے سے فارغ التحصیل 25 سالہ نوجوان تاجر اور کاروباری ادارے کے بانی میر رضا علی خان 28 جولائی کی رات اپنے گھر سے یہ کہہ کر نکلے تھے کہ وہ چند منٹ میں واپس آ جائیں گے، تاہم اس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔اہل خانہ کے مطابق میر رضا دکان سے واپسی کے بعد اپنی والدہ کو مختصر وقت میں واپس آنے کا کہہ کر گھر سے نکلے تھے۔ اگلے روز 29 جولائی کو گلستان جوہر کے علاقے سے ان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔پولیس کے مطابق کیس کے تمام پہلوو¿ں پر تحقیقات جاری ہیں اور حتمی نتیجہ تمام شواہد سامنے آنے کے بعد ہی اخذ کیا جائے گا۔
میر رضا علی کی پراسرار موت کے حوالے سے سنسنی خیز پیش رفت،موبائل ڈیٹا نے کھول دیے نئے راز،کروڑوں کے لین دین کی تفتیش شروع،18 افراد پولیس کی تحویل میں
20