اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کی کوششوں کے لیے بھی ایک سنگین اور خطرناک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ماضی میں بھی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا رہا ہے تاہم موجودہ حالات میں اقلیتی تشدد کو باقاعدہ ریاستی پالیسی کی شکل دے دی گئی ہے، جو عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت میں مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی سیاسی سوچ کا عملی مظاہرہ ان کے گجرات کے دورِ حکومت میں دیکھا جا چکا ہے، جہاں مسلمانوں کے قتلِ عام کے واقعات پیش آئے اور ہزاروں گھروں کو نذرِ آتش کیا گیا، جسے دنیا آج تک فراموش نہیں کر سکی۔وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت میں سکھ برادری کے ساتھ کئی دہائیوں سے بدترین سلوک روا رکھا جا رہا ہے، جبکہ اب عیسائی برادری بھی کھلے عام تشدد کی زد میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ کرسمس کے موقع پر عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملے کیے گئے، جو مودی حکومت کی انتہا پسند سوچ اور اقلیت دشمن پالیسیوں کا واضح ثبوت ہیں۔ ان کے مطابق یہ واقعات بھارت کے نام نہاد جمہوری اور سیکولر تشخص کو بری طرح بے نقاب کرتے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی رکھنے والا ملک اگر اپنی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے تو یہ صرف اس ملک کا اندرونی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی جنونیت اور ہندتوا نظریے پر مبنی انتہا پسندی خطے کے امن، باہمی رواداری اور عالمی استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں تباہی کی طرف بڑھتی ہیں وہ اسی قسم کے انتہاپسندانہ اور نفرت انگیز رویے اختیار کرتی ہیں۔ وزیرِ دفاع نے امید ظاہر کی کہ امریکا سمیت عالمی طاقتیں، بالخصوص ٹرمپ انتظامیہ، بھارت میں مسیحی برادری کو نشانہ بنانے کے واقعات پر واضح اور مو¿ثر ردِعمل دے گی۔خواجہ آصف نے کہا کہ اس کے برعکس پاکستان اور بنگلہ دیش میں اقلیتیں ہمیشہ سے محفوظ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئین کے تحت اقلیتوں کو برابری کی بنیاد پر مکمل مذہبی، سماجی اور قانونی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے اور ریاست ہر سطح پر ان کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔
بھارت میں اقلیتی تشدد ریاستی پالیسی بن چکا،عالمی امن خطرے میں،خواجہ آصف نے مودی حکومت کا چہرہ تار تار کر دیا
5