اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر ردوبدل کرتے ہوئے پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمتوں میں کمی کردی ہے،جس کے بعد نئی قیمتیں مقرر کردی گئی ہیں۔فراہم کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں ایک روپے 70 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تین روپے 12 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔
ایگزو نیوزکے مطابق نئی قیمتوں کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت 393 روپے 75 پیسے سے کم ہوکر 392 روپے 05 پیسے مقرر کی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 422 روپے 08 پیسے سے کم ہوکر 418 روپے 96 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔پٹرولیم ڈویژن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق مقررہ مدت کے لیے کیا گیا ہے جبکہ قیمتوں کے تعین میں عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں،درآمدی لاگت اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔سرکاری طور پر جاری سابقہ نوٹیفکیشن کے مطابق 22 ستمبر کو پٹرول 393 روپے 75 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل 422 روپے 08 پیسے فی لیٹر پر مقرر تھا۔حالیہ کمی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب رواں ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اور نمایاں اتار چڑھاو دیکھنے میں آیا ہے۔
اس سے قبل حکومت نے 22 ستمبر کے لیے پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 61 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا،جس کے بعد پٹرول 393 روپے 75 پیسے فی لیٹر ہوگیا تھا جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 96 پیسے کمی کرکے اسے 422 روپے 08 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا تھا۔اس سے چند روز قبل 19 ستمبر سے 21 ستمبر تک کے لیے بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی۔اس وقت پٹرول ایک روپے 65 پیسے سستا کرکے 389 روپے 14 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 88 پیسے کم کرکے 424 روپے 04 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا تھا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ مسلسل تبدیلیوں کی بنیادی وجہ عالمی تیل مارکیٹ میں قیمتوں کا اتار چڑھاو قرار دیا جارہا ہے۔حکومتی اعلانات کے مطابق عالمی منڈی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں پاکستان میں مقامی قیمتوں کے تعین پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں ماہ کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں کئی مرتبہ اضافہ بھی ہوا۔17 ستمبر کو حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 88 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا،جس کے بعد بالترتیب قیمتیں 391 روپے 22 پیسے اور 421 روپے 45 پیسے ہوگئی تھیں۔اس کے بعد 18 ستمبر کو پٹرول کی قیمت میں ایک روپے 65 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 88 پیسے کمی کی گئی جبکہ 21 ستمبر کے بعد ایک مرتبہ پھر پٹرول کی قیمت میں نمایاں اضافہ اور ڈیزل میں کمی سامنے آئی۔یوں چند ہی دنوں کے دوران دونوں اہم ایندھنوں کی قیمتوں میں متعدد مرتبہ تبدیلی ہوئی۔
حکومت نے رواں سال پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے قیمتوں پر زیادہ متواتر نظرثانی کا نظام اختیار کیا ہے،جس کے تحت عالمی منڈی کی صورتحال کے مطابق قیمتوں میں نسبتاً زیادہ تیزی سے ردوبدل ہوسکتا ہے تاہم ہفتہ اور اتوار کے روز قیمتوں میں تبدیلی نہ کرنے کی پالیسی کے باعث بعض اوقات ایک ہی نرخ چند روز تک برقرار رہتا ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاو کا براہ راست اثر شہریوں کے سفری اخراجات،پبلک ٹرانسپورٹ،مال برداری اور مختلف اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات پر پڑتا ہے۔اس لیے پٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں معمولی کمی بھی صارفین اور کاروباری شعبے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے،اگرچہ قیمتوں میں ہونے والی حالیہ مجموعی تبدیلیوں کے تناظر میں اس کمی کا حجم محدود ہے۔
دوسری جانب حکومت نے ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ کم کرنے کے لیے کم آمدن اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کے لیے پٹرول ریلیف پیکج کا اعلان بھی کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو موٹرسائیکل،رکشہ،چنگچی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے ریلیف دینے کا اعلان کیا تھا۔یوں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تازہ کمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاو کے اثرات پاکستان میں مسلسل محسوس کیے جارہے ہیں۔نئی قیمتوں کے باعث پٹرول 392 روپے 05 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 418 روپے 96 پیسے فی لیٹر کی سطح پر آگیا ہے تاہم آئندہ قیمتوں کا انحصار عالمی منڈی کی صورتحال اور متعلقہ حکومتی جائزے پر ہو گا۔