اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی وزارت صنعت و پیداوار نے پاکستان سٹیل میں قیمتی اثاثوں، مشینری، کیبلز اور سکریپ کی چوریوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو باضابطہ خط لکھ دیا ہے۔ وزارت نے خط میں جامع تحقیقات کرنے اور چوری کے تمام پہلووں کا جائزہ لے کر ذمہ داران کی فوری گرفتاری کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ گزشتہ سال 36 ٹن سکریپ کی چوری میں ملوث افراد کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن اندرونی کمزوریوں اور سہولت کاری کے باعث کچھ معاملات اب بھی غیر حل شدہ ہیں،جس کے بعد وزارت نے ایف آئی اے سے سخت اور شفاف اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق وفاقی وزارت صنعت و پیداوار نے پاکستان سٹیل میں قیمتی اثاثوں، مشینری،کیبلز اور سکریپ کی چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعدایف آئی اے کو باضابطہ خط لکھ دیا ہے اور فوری، جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔وزارت نے خط میں پاکستان سٹیل میں ہونے والی چوریوں کے تمام پہلووں کا جائزہ لینے اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔واضح رہے کہ دسمبر 2025 میں 36 ٹن سکریپ کی چوری کے کیس میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے مسروقہ سامان برآمد کیا گیا تھا جبکہ 24 دسمبر 2026 کو سکریپ چوری میں ملوث ملازمین اور ان کے سرپرست افسران کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس دوران دو ملازمین پر سہولت کاری کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ گمراہ کن بیان کی بدولت کچھ ملزمان کی ضمانت منظور ہو گئی اور گیٹ نمبر 5 سے بغیر پاس چوری شدہ سامان کی نقل و حمل بھی کی گئی تھی۔اندورنی انکوائری میں پاکستان سٹیل اور ڈی ایس جی سیکیورٹی کی کوتاہی بھی سامنے آئی،جس کے بعد وزارت نے ایف آئی اے سے سفارش کی کہ افسران،سیکیورٹی گارڈز،ڈی ایس جی اور سکریپ ڈیلرز کے خلاف جامع تحقیقات کی جائیں تا کہ چوری کے تمام پہلو واضح ہوں اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جا سکے۔وزارت صنعت و پیداوار نے واضح کیا کہ پاکستان سٹیل میں ہونے والی چوریوں کے ذمہ داروں کی شناخت اور سخت کارروائی ناگزیر ہے، تا کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو اور قومی اثاثوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ایف آئی اے نے بھی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی ہے اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھا کر کے معاملے کی تفصیلی جانچ شروع کر دی ہے۔حالیہ واقعات نے پاکستان سٹیل میں اندرونی کنٹرول اور سیکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے اور وزارت کی ہدایات کے مطابق یہ تحقیقات ملکی صنعت کے تحفظ اور قانونی نظام کی مضبوطی کے لیے انتہائی اہم قرار دی گئی ہیں۔