اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی اور سیاسی قیادت کی جانب سے جمعیت علماء اسلام(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے شہداء سے متعلق حالیہ بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے،جس میں متعدد وزرا اور رہنماوں نے بیان کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے اس پر معافی کا مطالبہ کیا ہے اور شہداء کی قربانیوں کو قومی وقار اور یکجہتی کا بنیادی ستون قرار دیا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کے بیان کو شہداءکی قربانیوں کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک سینئر سیاست دان اور مذہبی رہنما ہونے کے ناطے ان سے زیادہ ذمہ دارانہ طرزِ بیان کی توقع کی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان قربان نہیں کرتا بلکہ اس کے پیچھے ایک نظریہ،عقیدہ اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنے ردعمل میں کہا کہ فوجی جوانوں کی بے مثال قربانیوں کو محض مالی معاوضہ قرار دینا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ یہ اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اقدار کے بھی منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوری حق ہے تاہم شہداء کے مقام پر گفتگو کرتے ہوئے احتیاط اور ذمہ داری ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ افواجِ پاکستان صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ قومی سلامتی،وقار اور بقاء کی علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و استحکام شہداء کی قربانیوں کا نتیجہ ہے اور ان کی قدر کسی بھی صورت کم نہیں کی جا سکتی۔
وزیر مملکت برائے سمندر پار پاکستانی امور عون چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیان پر شہداء کے لواحقین اور پوری قوم سے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ شہادت جیسے عظیم رتبے کو تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غلط ہے بلکہ یہ شہداء اور ان کے اہلِ خانہ کی توہین کے مترادف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شہادت حب الوطنی،ایمان اور جذبہ قربانی کا مظہر ہوتی ہے،نہ کہ کسی مالی معاوضے کا نتیجہ۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی اس بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہید کی جان کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملک کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں قومی بیانیے کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی جاری رکھی جا سکے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ و سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہادت ایک عظیم اور مقدس مقام ہے جسے دنیاوی پیمانوں سے نہیں ناپا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ یہ مقام صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو ایمان اور یقین کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوتے ہیں۔وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کی بدولت ہی آج ملک میں امن قائم ہے اور پوری قوم کو ان پر فخر ہے۔انہوں نے زور دیا کہ قومی مفادات کے معاملات میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا ضروری ہے اور ایسے بیانات سے گریز کیا جانا چاہیے جو قومی جذبات کو مجروح کریں۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بھی بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد ہر سیاسی مفاد سے بالاتر ہے اور افواجِ پاکستان اور شہداء کی قربانیوں پر تنقید قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ زندہ قومیں ہمیشہ اپنے ہیروز اور شہداء کو عزت و احترام دیتی ہیں۔مجموعی طور پر حکومتی اور سیاسی قیادت نے اس معاملے پر یکساں موقف اپناتے ہوئے شہداء کے احترام کو قومی ذمہ داری قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ سیاسی اختلافات کو قومی سلامتی اور دفاع سے متعلق حساس معاملات سے الگ رکھا جائے تاکہ قومی یکجہتی کو نقصان نہ پہنچے۔