اسلام آباد (ایگزو نیوز ڈیسک)مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اور ممکنہ قلت کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن کے سیکرٹری نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ڈیولوشن کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں عدم استحکام سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا کر سکتا ہے،جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔حکام نے واضح کیا کہ پاکستان کے پاس کم از کم ایک ماہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایندھن کے ذخائر موجود ہیں۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا)کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر سٹاک رپورٹس مرتب کرے تاکہ مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی نے بتایا کہ موجودہ پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر تقریباً 28 دن کی کھپت کے برابر ہیں اور پٹرول مارکیٹنگ کمپنیاں سپلائی چین کے تسلسل کی ضمانت دے رہی ہیں،جس کے پیش نظر فی الحال ایندھن کی قلت کا کوئی براہ راست خطرہ نہیں ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کا بحران طویل ہوا تو عالمی سطح پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور اس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک تک پہنچیں گے۔حکام کا کہنا ہے کہ حکومت اس صورتحال پر مسلسل نگرانی رکھے ہوئے ہے اور عوام کو بروقت معلومات فراہم کی جائیں گی۔یہ صورت حال ملک میں توانائی کے شعبے کے لیے ایک چیلنج ہے اور حکومت،ریگولیٹری ادارے اور پٹرول مارکیٹنگ کمپنیاں مشترکہ طور پر کسی بھی ممکنہ بحران کے لیے تیار ہیں تاکہ عوامی مفاد اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔