اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران نے امریکا کے ساتھ بڑھتی کشیدگی میں ایک بار پھر سخت موقف اختیار کر لیا ہے،جہاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر امریکا زمینی فوج کے ذریعے ایران پر حملہ کرے گا تو اسے بھاری اور تباہ کن نقصان اٹھانا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی جنگ بندی کے لیے کسی سے درخواست نہیں کرے گا اور امریکی اقدامات کا بھرپور مقابلہ کرے گا۔
ایگزو نیوز کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ ایران امریکا کی زمینی افواج سے خوفزدہ نہیں ہے بلکہ ان کا انتظار کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی مذاکرات کو مسترد کرتا ہے اور گزشتہ ہفتے سے امریکا کے اعلیٰ حکام اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ نے آذربائیجان کے ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطے میں تصدیق کی کہ ایران کی جانب سے آذربائیجان کی طرف کوئی میزائل نہیں بھیجا گیا اور اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں تاکہ غیر ارادی اقدامات کی تردید کی جا سکے۔ایرانی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی نے بھی امریکی اقدامات کے حوالے سے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ امریکا چند ہزار فوجی لے کر ایران میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے بہادر جوان امریکی حکام کو قیدی یا نشانہ بنانے کے لیے تیار ہیں، اور ایرانی سرزمین ایسے افراد کے لیے محفوظ نہیں جو یہاں تباہی پھیلانا چاہتے ہیں۔علی لاریجانی کے مطابق،ایران نے زمینی،فضائی اور سمندری دفاعی تیاری مکمل کر رکھی ہے اور اگر امریکا نے ایران میں حملہ کیا تو اسے بھاری نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ایرانی عہدیداروں کے یہ بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عالمی سیاسی منظرنامے میں سنجیدہ اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔یہ واضح ہے کہ ایران نہ صرف فوجی سطح پر خود کو تیار کر چکا ہے بلکہ خطے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی ممکنہ کارروائیوں کے خلاف پرامن و ڈپلومیٹک ردعمل کے ساتھ ساتھ سخت دفاعی موقف اپنانے کا بھی عندیہ دے چکا ہے۔