Home » مشرقِ وسطیٰ آگ میں جل اٹھا،تہران کی ریاض سے تل ابیب تک ڈرون،بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی بارش،آبنائے ہرمز کی بندش کا خدشہ

مشرقِ وسطیٰ آگ میں جل اٹھا،تہران کی ریاض سے تل ابیب تک ڈرون،بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی بارش،آبنائے ہرمز کی بندش کا خدشہ

by ahmedportugal
3 views
A+A-
Reset

تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور تہران نے خطے کے متعدد ممالک میں موجود امریکی و اسرائیلی مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے بھرپور جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، اس دوران سب سے سنگین خدشہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کا سامنے آیا ہے، جسے عالمی توانائی ترسیل اور سمندری تجارت کی شہ رگ سمجھا جاتا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق دارالحکومت ریاض میں واقع امریکی سفارتخانے پر دو ڈرون حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں عمارت کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی اور جزوی نقصان ہوا تاہم عمارت خالی ہونے کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سعودی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ڈرون ٹکرانے کے بعد ڈپلومیٹک کوارٹر میں دو دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے کے ردعمل کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا جلد جواب دے گا اور اس میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ بھی شامل ہوگا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے حملوں میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ دو لاپتہ اہلکاروں کی باقیات بھی برآمد کر لی گئی ہیں۔ادھر اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں سرکاری نشریاتی ادارے کی عمارت سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں کے بعد شہر میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر اور اسرائیلی فضائیہ کے ہیڈکوارٹر کو بھی میزائل حملوں میں نشانہ بنایا گیا،جن میں خیبر میزائل استعمال کیے گئے۔تل ابیب ،حیفہ اور یروشلم کے مشرقی علاقوں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔

قطری وزارت دفاع کے مطابق ایران کی جانب سے 101 بیلسٹک میزائل، 3 کروز میزائل اور 39 ڈرون قطری فضائی حدود میں داخل ہوئے،جن میں سے بیشتر کو فضا میں تباہ کر دیا گیا۔ایران نے بحرین،عراق،کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔آسٹریلوی وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ دبئی میں قائم ال منہاد ایئر بیس پر ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے حملہ کیا گیا تاہم وہاں موجود آسٹریلوی اہلکار محفوظ رہے۔روسی میڈیا کے مطابق اردن کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائل روکنے کی کوشش کی مگر ایک میزائل اپنے ہی فوجی اڈے سے جا ٹکرایا جس کے باعث بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔خطے کی مجموعی صورتحال کے پیش نظر اردن میں امریکی سفارتخانہ خالی کروا لیا گیا ہے۔

واشنگٹن میں قائم ایک انسانی حقوق تنظیم کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 85 شہری اور 11 فوجی اہلکار جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 28 فروری سے جاری حملوں کے بعد مجموعی ہلاکتیں 742 سے تجاوز کر گئی ہیں،جن میں 176 بچے بھی شامل ہیں۔ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔امریکی وزیر خارجہ نے کیپٹل ہل پر اراکین کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد امریکا کو بھی نشانہ بنائے جانے کا خدشہ تھا اور اگر دفاعی پوزیشن اختیار نہ کی جاتی تو جانی نقصان زیادہ ہو سکتا تھا تاہم رکن کانگریس جیکوین کاسٹرو نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے امریکا کو خطرناک صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔اسرائیلی فوج نے جنوبی بیروت کے متعدد علاقوں کے رہائشیوں کو فوری انخلا کی ہدایت جاری کی ہے جبکہ ٹیلی گرام پیغامات کے ذریعے لبنان کے درجنوں دیہات کے مکینوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ممکنہ فوجی کارروائی سے قبل محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو جائیں۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات اور قطر نے اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کریں۔ دونوں ممالک خطے میں تنازع کے پھیلاو کو روکنے اور توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے بچنے کے لیے وسیع سفارتی اتحاد کی تشکیل پر غور کر رہے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو بند کیا گیا تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔یہ تنگ بحری راستہ ایک جانب عمان اور متحدہ عرب امارات جبکہ دوسری جانب ایران کے درمیان واقع ہے اور خلیج عرب کو بحیرہ عرب سے ملاتا ہے۔دنیا کی قابلِ ذکر مقدار میں تیل اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے،جس کے باعث اس کی بندش کو عالمی سطح پر سنگین معاشی بحران کا پیش خیمہ سمجھا جا رہا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز