نیوجرسی(ایگزو نیوز ڈیسک)فیفا ورلڈ کپ 2026 کا فائنل آج نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں کھیلا جا رہا ہے،جہاں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا اور یورپی چیمپئن اسپین عالمی اعزاز کے لیے مدِمقابل ہیں۔ اس ہائی پروفائل مقابلے نے دنیا بھر کے شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے جبکہ ماہرین اور تجزیہ کار مختلف زاویوں سے میچ کے ممکنہ نتیجے پر رائے دے رہے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق فائنل میں سب سے زیادہ توجہ ارجنٹینا کے تجربہ کار کپتان لیونل میسی اور سپین کے ابھرتے ہوئے نوجوان سٹار لامین یامال پر مرکوز ہے۔ ایک جانب میسی کا وسیع تجربہ اور فیصلہ کن لمحات میں میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت ہے، تو دوسری جانب یامال کی رفتار، مہارت اور بے خوف کھیل سپین کے لیے بڑا ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔ٹورنامنٹ میں دونوں ٹیموں کی کارکردگی نے اس فائنل کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ارجنٹینا اب تک سب سے زیادہ گول کرنے والی ٹیم کے طور پر سامنے آئی ہے، جس کی اٹیکنگ لائن کسی بھی دفاع کو توڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ سپین نے دفاعی اعتبار سے غیر معمولی تسلسل دکھایا ہے اور پورے ایونٹ میں انتہائی کم گولز کنسیڈ کیے ہیں۔
اسی تناظر میں سینئر صحافی خالد شہزاد فاروقی نے فائنل سے قبل اپنی پیش گوئی میں سپین کو فیورٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مقابلہ شور یا جذبات سے نہیں بلکہ خاموش حکمت عملی اور منظم کھیل سے جیتا جائے گا،اس میچ میں انفرادی چمک کے بجائے اجتماعی نظام اور ٹیم ورک فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔انہوں نے اپنے تجزیے میں کہا کہ سپین نے پورے ورلڈ کپ میں ہر مرحلے پر برتری دکھائی،دباو کے لمحات میں بھی خود پر قابو رکھا اور مضبوط حریفوں کو حکمت عملی کے ذریعے شکست دی۔ان کے بقول سپین کی اصل طاقت اس کا مربوط نظام ہے،جہاں ہر کھلاڑی ایک زنجیر کی کڑی کی طرح کام کرتا ہے اور ٹیم کسی ایک فرد پر انحصار نہیں کرتی۔
اس کے برعکس ارجنٹینا کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کی کارکردگی زیادہ تر اپنے نمایاں کھلاڑیوں کے گرد گھومتی ہے،جو کسی بھی لمحے میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاہم یہی انحصار بعض اوقات ٹیم کے لیے دباو کا باعث بھی بن سکتا ہے۔خالد شہزاد فاروقی نے پیش گوئی کی کہ سپین یہ فائنل دو-صفر یا دو-ایک سے جیت سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو یہ صرف ایک ٹیم کی نہیں بلکہ ایک مکمل فٹبالنگ فلسفے اور منظم حکمت عملی کی جیت ہوگی۔دونوں ٹیموں کے درمیان ماضی کے مقابلے بھی نہایت متوازن رہے ہیںتاہم فائنل جیسے بڑے سٹیج پر دباو کو سنبھالنے،مواقع سے فائدہ اٹھانے اور دفاعی نظم و ضبط برقرار رکھنے والی ٹیم کو برتری حاصل ہوگی۔میچ کے قوانین کے مطابق اگر مقررہ وقت میں مقابلہ برابر رہا تو اضافی وقت کھیلا جائے گااور اس کے بعد بھی فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں پنالٹی شوٹ آوٹ کے ذریعے عالمی چیمپئن کا تعین کیا جائے گا، جس سے اس بڑے مقابلے کے مزید سنسنی خیز ہونے کے امکانات موجود ہیں۔