اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سینیٹ میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے ملاقاتوں کے معاملے پر بحث دوبارہ شروع ہو گئی، جس کے دوران وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ یہ معاملہ مکمل طور پر عدالت اور جیل حکام کے دائرہ اختیار میں ہے اور حکومت کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق سینیٹ کا اجلاس سینیٹر شیری رحمان کی صدارت میں ہوا،جس میں پی ٹی آئی رہنما فلک ناز چترالی نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی تک گزشتہ دو ماہ سے کسی کی رسائی نہیں ہو رہی۔علی ظفر نے مزید کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود ملاقات نہیں کروائی جا رہی۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے پر آئندہ ہفتے مکمل رپورٹ پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ہر ہفتے اہلیہ سے ملاقات کرائی جاتی ہے اور انہیں ان کی مرضی کا کھانا فراہم کیا جاتا ہے، سہولیات فراہم ہیں اور ان کی صحت مکمل طور پر ٹھیک ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے مزید وضاحت کی کہ اڈیالہ جیل پنجاب حکومت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے اور وفاقی حکومت کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں،جیل سپرنٹنڈنٹ کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ وہ قیدی کے رویے کو دیکھتے ہوئے ملاقات طے کرے اور جیل مینول کے مطابق سیاسی ملاقاتیں منع ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کے معاملے میں کوئی مداخلت نہیں ہے اور یہ مکمل طور پر جیل انتظامیہ اور عدالت کے درمیان طے ہوتا ہے۔مزید برآں، اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی قیادت سے متعلق بھی وضاحت دی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی مرضی سے قائد حزب اختلاف مقرر کیا گیا اور اگر حکومت پر دباو ہوتا تو محمود اچکزئی اپوزیشن لیڈر نہ بن پاتے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ سینیٹ میں بھی جلد اپوزیشن لیڈر مقرر کر دیا جائے گا اور اس معاملے میں پہلی بار تاخیر نہیں ہوئی کیونکہ یہ سپیکر قومی اسمبلی کا اختیار ہے۔اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے نومنتخب سینیٹر عابد شیر علی نے حلف اٹھایا جبکہ جی سیون گیس لیکیج دھماکوں میں انسانی جانوں کے ضیاع پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
عمران خان سے ملاقاتیں عدالت اور جیل انتظامیہ کے زیر کنٹرول،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ہاتھ کھڑے کر لئے
6