لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان میں عالمی معیار کے معالجین کی تیاری کے لیے میڈیکل تعلیم کو جدید تحقیق،ٹیکنالوجی،عملی تربیت اور عالمی طبی رجحانات سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔امیرالدین میڈیکل کالج کے زیر اہتمام ریسرچ اینڈ ایجوکیشن 2026 کانفرنس میں ملکی و غیر ملکی طبی ماہرین نے میڈیکل ایجوکیشن کے مستقبل،مصنوعی ذہانت،سیمولیشن،ریسرچ بیسڈ لرننگ اور جدید تدریسی طریقوں پر اہم تجاویز پیش کیں جبکہ مقررین نے واضح کیا کہ صرف کتابی علم کے بجائے تحقیق اور کلینیکل تربیت کو تعلیم کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔
ایگزو نیوز کے مطابق امیرالدین میڈیکل کالج کے زیر اہتمام ”ریسرچ اینڈ ایجوکیشن 2026“ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں ملکی و غیر ملکی طبی ماہرین،سینئر پروفیسرز،ینگ ڈاکٹرز اور طلبہ نے شرکت کی۔کانفرنس میں طبی تعلیم،جدید تحقیق،مصنوعی ذہانت،ٹیلی میڈیسن،سیمولیشن اور شواہد پر مبنی طبی تربیت سمیت مختلف موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔کانفرنس کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی،ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی ہی قومی ترقی کی حقیقی بنیاد ہیں،ایک بہترین ہیلتھ پروفیشنل بننے کے لیے صرف روایتی تعلیم کافی نہیں بلکہ مسلسل محنت،پیشہ ورانہ وابستگی اور عالمی سطح پر ہونے والی طبی تحقیق سے ہم آہنگ رہنا ضروری ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ صحت کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے کے لیے جدید تحقیق اور جدت کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی،ڈاکٹرز اور طبی ماہرین کو بین الاقوامی تحقیقی رجحانات،جدید ٹیکنالوجی اور نئے تدریسی طریقوں سے جوڑ کر ہی پاکستان عالمی طبی برادری میں اپنا مقام مزید مستحکم کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت صحت کے شعبے میں تحقیق،جدت اور جدید علمی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ممکنہ تعاون جاری رکھے گی،طب کا مستقبل روایتی طریقہ تدریس تک محدود نہیں بلکہ نئی ٹیکنالوجی،تحقیقی دریافتوں اور مسلسل پیشہ ورانہ تربیت سے وابستہ ہے۔کانفرنس کی صدارت پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و لاہور جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کی۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ میڈیکل ایجوکیشن میں جدت کے بغیر عالمی معیار کے معالجین تیار کرنا ممکن نہیں۔پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے کہا کہ امیرالدین میڈیکل کالج اور پی جی ایم آئی طبی تعلیم میں نئے تجربات اور جدید تعلیمی طریقہ کار کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں،طلبہ کو صرف کلاس روم تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں کلینیکل تجربات،تحقیقی سرگرمیوں اور عملی تربیت سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید طبی تعلیم کا مقصد ایسے ڈاکٹر تیار کرنا ہونا چاہیے جو بدلتے ہوئے طبی چیلنجز کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ تحقیق،تشخیص اور علاج کے جدید تقاضوں سے بھی پوری طرح واقف ہوں،ریسرچ بیسڈ لرننگ طلبہ کی علمی اور عملی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرسکتی ہے۔کانفرنس میں ملک کے مختلف معروف طبی اداروں سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور اساتذہ نے شرکت کی جبکہ امریکا اور آغا خان یونیورسٹی کراچی سے وابستہ ماہرین اور اساتذہ نے بھی خصوصی شرکت کرکے طبی تعلیم اور تحقیق کے مختلف پہلووں پر اظہار خیال کیا۔مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ دور میں صرف کتابی علم پر انحصار کرکے طبی میدان میں مطلوبہ مہارت حاصل نہیں کی جا سکتی،میڈیکل ایجوکیشن کو ٹیکنالوجی،عملی تربیت،سیمولیشن اور تحقیق کے ساتھ مربوط کرنا ہو گا تاکہ طلبہ حقیقی طبی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہوسکیں۔
کانفرنس میں روایتی لیکچر بیسڈ تدریس کے بجائے پروبلم بیسڈ لرننگ،کیس بیسڈ ڈسکشن اور سکلز لیبز کو میڈیکل نصاب کا زیادہ موثر حصہ بنانے کی تجاویز پیش کی گئیں۔ ماہرین نے کہا کہ عملی اور مسئلہ حل کرنے پر مبنی تدریس سے طلبہ کی فیصلہ سازی اور کلینیکل صلاحیت بہتر ہوسکتی ہے۔فیکلٹی ڈویلپمنٹ کے حوالے سے بھی اہم سفارشات سامنے آئیں۔شرکاء نے طبی اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کے لیے فیکلٹی ڈویلپمنٹ سینٹرز کے قیام اور تدریسی طریقہ کار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا۔مقررین نے تجویز دی کہ میڈیکل نصاب میں ہر چند برس بعد عالمی سطح پر ہونے والی طبی اور تکنیکی پیش رفت کے مطابق تبدیلیاں کی جائیں اور مصنوعی ذہانت،ٹیلی میڈیسن،ڈیجیٹل ہیلتھ اور پبلک ہیلتھ کے نئے تصورات کو بھی باقاعدہ طور پر تعلیمی پروگراموں کا حصہ بنایا جائے۔
کانفرنس میں پاکستان کو درپیش صحت کے بڑے چیلنجز کا حوالہ دیتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ ہیپاٹائٹس،ذیابیطس،امراضِ قلب اور زچہ و بچہ کی صحت جیسے مسائل کے حل کے لیے مقامی حالات اور مقامی آبادی کے ڈیٹا پر مبنی تحقیق ناگزیر ہے۔شرکاء نے کہا کہ اگر مقامی بیماریوں، ان کے پھیلاو،علاج اور روک تھام کے حوالے سے قابلِ اعتماد تحقیق کی جائے تو ملک کے لیے زیادہ موثر اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ طبی پالیسی تشکیل دی جاسکتی ہے۔اس مقصد کے لیے میڈیکل کالجز میں سٹوڈنٹ ریسرچ سوسائٹیز،باقاعدہ ریسرچ یونٹس اور ایتھکس کمیٹیز کو موثر انداز میں فعال بنانے کی سفارش بھی کی گئی۔ماہرین کے مطابق ابتدائی تعلیمی مرحلے ہی سے طلبہ میں تحقیق کا رجحان پیدا کیا جائے تو مستقبل کے طبی ماہرین زیادہ مضبوط تحقیقی بنیاد کے ساتھ عملی میدان میں داخل ہوسکتے ہیں۔
مقررین نے حکومت اور نجی شعبے پر زور دیا کہ نوجوان محققین کی حوصلہ افزائی کے لیے تحقیقاتی گرانٹس،فنڈنگ اور علمی منصوبوں کی سرپرستی بڑھائی جائے۔ اس کے ساتھ میڈیکل کالجز اور جامعات میں باقاعدہ تحقیقی جرائد کے اجرا اور معیاری مقالہ جات کی اشاعت کے مواقع بڑھانے کی بھی تجویز سامنے آئی۔کانفرنس کے شرکاءنے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان میں طبی تعلیم اور تحقیق کو عالمی سطح کے اداروں کے ساتھ جوڑنے،علمی روابط بڑھانے اور جدید تجربات سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے،بین الاقوامی تعاون کے ذریعے پاکستانی طلبہ اور نوجوان ڈاکٹروں کو جدید طبی رجحانات سے زیادہ موثر انداز میں روشناس کرایا جاسکتا ہے۔تقریب میں فیکلٹی ممبران،سینئر پروفیسرز،ینگ ڈاکٹرز اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی،جس کے باعث کانفرنس کو طبی تعلیم اور تحقیق کے حوالے سے ایک اہم علمی سرگرمی قرار دیا گیا۔
کانفرنس کے اختتام پر طبی تعلیم، تحقیق اور علمی خدمات میں نمایاں کردار ادا کرنے والے ماہرین اور شرکاء میں شیلڈز اور سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے گئے۔منتظمین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تحقیق اور جدید تدریسی طریقوں کے فروغ کے لیے ایسی علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔ریسرچ اینڈ ایجوکیشن 2026 کانفرنس میں سامنے آنے والی تجاویز نے اس ضرورت کو ایک بار پھر نمایاں کیا کہ پاکستان میں طبی تعلیم کو عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کے لیے جدید تحقیق،ٹیکنالوجی، عملی تربیت اور مسلسل فیکلٹی ڈویلپمنٹ کو تعلیمی نظام کا بنیادی حصہ بنانا ہو گا۔