Home » دنیا بھر میں مکہ دفاعی اتحاد کی گونج،ترک صدر اردوان نے معاہدے کو خطے کیلئے گیم چینجر قرار دے دیا

دنیا بھر میں مکہ دفاعی اتحاد کی گونج،ترک صدر اردوان نے معاہدے کو خطے کیلئے گیم چینجر قرار دے دیا

by ahmedportugal
16 views
A+A-
Reset

مکہ مکرمہ(ایگزو نیوز ڈیسک)دنیا بھر میں توجہ حاصل کرنے والے مکہ دفاعی اتحاد کے حوالے سے ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسے خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال میں ایک “گیم چینجر” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ نہ صرف اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنائے گا بلکہ علاقائی استحکام، انسداد دہشت گردی اور دفاعی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز بھی کرے گا۔ مکہ مکرمہ میں اعلیٰ سطح ملاقاتوں کے بعد سامنے آنے والا یہ معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی توجہ ایک بار پھر خطے کی سکیورٹی حرکیات پر مرکوز کر دی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے مکہ مکرمہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر ہونے والے اہم دورے اور سہ فریقی ملاقات کو خطے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کو نئی مضبوطی فراہم کرے گا۔اپنے بیان میں ترک صدر نے بتایا کہ اس دورے کے دوران انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس کے نتیجے میں تینوں ممالک نے ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ اجتماعی دفاعی صلاحیت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید مو¿ثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔رجب طیب اردوان نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت خود دفاع کے حق کی توثیق کرتا ہے اور اس کا مقصد کسی بھی ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کا فروغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دیگر برادر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے جو امن اور تعاون کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔ترک صدر نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ترکیہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتکاری کو ترجیح دینے کی اپنی پالیسی پر قائم رہے گا، اور دعا کی کہ یہ معاہدہ پورے خطے کے لیے خیر، برکت اور استحکام کا باعث بنے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد سعودی عرب کو حالیہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں توانائی کے انفراسٹرکچر، فوجی تنصیبات اور شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔سعودی حکام کے مطابق متعدد حملوں میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں ڈرونز استعمال کیے گئے جبکہ اس تنازع کے اثرات بحرِ احمر تک پھیل گئے جہاں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہوں کی جانب سے جہاز رانی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی چیلنجز کے باعث علاقائی طاقتوں کے درمیان دفاعی تعاون میں تیزی آئی ہے۔ اس سے قبل پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 2025 میں ہونے والا دوطرفہ دفاعی معاہدہ بھی عالمی سطح پر توجہ حاصل کر چکا ہے، جبکہ موجودہ سہ فریقی معاہدہ اس تعاون کو مزید وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔نئے دفاعی فریم ورک کے تحت تینوں ممالک نے اس اصول پر اتفاق کیا ہے کہ کسی ایک رکن ملک پر حملہ تینوں کے خلاف تصور کیا جائے گا، جس سے نہ صرف دفاعی ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز