Home » حکومتی دعووں کا کچا چٹھا کھل گیا،میو ہسپتال میں سہولیات کا شدید فقدان،مریض دربدر،نظام مفلوج،ہزاروں مریض بغیر علاج واپس،ادویات بھی نایاب

حکومتی دعووں کا کچا چٹھا کھل گیا،میو ہسپتال میں سہولیات کا شدید فقدان،مریض دربدر،نظام مفلوج،ہزاروں مریض بغیر علاج واپس،ادویات بھی نایاب

by ahmedportugal
9 views
A+A-
Reset

لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)صوبائی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری میو ہسپتال میں سہولیات کی کمی اور بدانتظامی نے حکومتی دعووں کی قلعی کھول دی ہے، جہاں ہزاروں مریض ٹوکن حاصل کرنے کے باوجود علاج سے محروم رہے جبکہ ادویات کی عدم دستیابی اور ناقص نظام کے باعث مریض دربدر ہونے پر مجبور ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور کے سب سے بڑے سرکاری طبی ادارے میو ہسپتال میں بنیادی طبی سہولیات کی شدید کمی اور انتظامی خامیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں ٹوکن جاری ہونے کے باوجود ہزاروں مریضوں کا علاج مکمل نہ ہو سکا جبکہ ادویات کی عدم دستیابی اور ناقص ڈیجیٹل نظام نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔یہ انکشافات Punjab Healthcare Commission کی جانب سے Lahore High Court میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں سامنے آئے،جس کے مطابق 9 اپریل کو مجموعی طور پر 6085 ٹوکن جاری کیے گئے تاہم صرف 3639 مریضوں کا معائنہ سسٹم میں ریکارڈ ہو سکا۔اسی طرح 10 اپریل کو 4094 ٹوکن جاری ہونے کے باوجود 1772 مریضوں کا سٹیٹس ”ان پراسیس“ ہی رہا،جو واضح انتظامی بدنظمی کی نشاندہی کرتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 40 فیصد سے زائد مریضوں کا ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں درج ہی نہیں کیا گیا،جس سے نہ صرف سروس ڈلیوری متاثر ہوئی بلکہ ہسپتال کے ریکارڈ کی شفافیت پر بھی سنگین سوالات اٹھ گئے۔او پی ڈی میں 144 سے 154 ڈاکٹروں کی تعیناتی کے باوجود مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مزید برآں، رپورٹ کے مطابق چیک اَپ کروانے والے 64 فیصد مریضوں کو ادویات فراہم نہ کی جا سکیں۔ 9 اپریل کو معائنہ کروانے والے 3639 مریضوں میں سے صرف 2664 کو ادویات تجویز کی گئیں،جن میں سے بھی صرف 63 فیصد مریضوں کو مکمل یا جزوی ادویات مل سکیں جبکہ باقی 37 فیصد مریض فارمیسی سے خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے۔
ہسپتال کے انفراسٹرکچر میں بھی سنگین خامیاں سامنے آئیں،جہاں بجلی کی بندش کی صورت میں یو پی ایس بیک اَپ محض 3 سے 4 منٹ تک محدود پایا گیا،جو ایک بڑے تدریسی ہسپتال کے لیے ناکافی قرار دیا گیا۔سرجیکل او پی ڈی میں صرف دو کمپیوٹرز کی دستیابی کے باعث ڈاکٹرز کو تھرمل سلپس کے پیچھے نسخے لکھنے یا موبائل فونز کے ذریعے ڈیٹا محفوظ کرنے جیسے غیر معیاری طریقے اپنانے پڑے،جو قواعد کی خلاف ورزی ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بروقت ڈیٹا انٹری نہ ہونے کے باعث لیبارٹری اور ریڈیالوجی کے شعبے بھی متاثر ہو رہے ہیں،جس سے مریضوں کی تشخیص اور علاج میں تاخیر ہو رہی ہے۔Punjab Healthcare Commission نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ کنسلٹنٹ ڈاکٹرز کو اپنی آئی ڈی کے ذریعے خود مریضوں کا ڈیٹا سسٹم میں درج کرنے کا پابند بنایا جائے جبکہ او پی ڈی اور فارمیسی میں کمپیوٹرز کی تعداد فوری بڑھانے اور عملے کی مناسب تربیت کو یقینی بنایا جائے۔

یہ رپورٹ کمیشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ریحان سعید،ڈپٹی ڈائریکٹر عاطف مسعود اور سہیل قیصر گل کی جانب سے ہسپتال کے دورے کے بعد مرتب کی گئی، جسے سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کو اصلاحات اور ضروری کارروائی کے لیے بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کردہ درخواست کے جواب میں عدالت میں جمع کرائی گئی،جس کے بعد ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی اور صحت کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز