چکوال(ایگزو نیوز ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملکی سیاست،آئینی ترامیم اور ریاستی فیصلوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 28ویں ترمیم کے بعد اسٹیبلشمنٹ خود کو عقلِ کل سمجھنے لگی ہے اور عوامی مینڈیٹ کو یکسر نظرانداز کر کے فیصلے طاقت کے زور پر مسلط کیے جا رہے ہیں،جس کے نتائج ملک و قوم کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں،بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں نہ ہونے دینا بھی ایک جمہوری ملک میں افسوسناک ہے،میں تو یہ بھی سوال اٹھاتا ہوں کہ وہ گرفتار کیوں ہیں؟نہ میں سیاستدانوں کی گرفتاری کے حق میں ہوں اور نہ ملاقاتوں پر پابندی کے،اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کس کی ہے؟ اور اصل فیصلے کون کر رہا ہے؟ ہم سب انہی فیصلوں کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق چکوال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کی باتیں تو بڑے زور و شور سے کی جا رہی ہیں مگر یہ نہیں بتایا جا رہا کہ ان صوبوں کا انتظامی ڈھانچہ،مالی وسائل اور حکمرانی کا نظام کیسے چلایا جائے گا؟۔انہوں نے خبردار کیا کہ بغیر منصوبہ بندی اور مشاورت کے کیے گئے فیصلے ملک کو مزید بحرانوں میں دھکیل دیں گے۔فاٹا کے انضمام کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی ہم نے واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیے گئے فیصلوں کے نتائج خطرناک ہوں گے اور آج وہ تمام خدشات درست ثابت ہو چکے ہیں۔ان کے مطابق ریاستی فیصلے اگر عوامی رضامندی اور زمینی حقائق کے برعکس ہوں تو وہ دیرپا مسائل کو جنم دیتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے آئینی ترامیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اتنی تیزی کے ساتھ آئین میں ترامیم کا جو رجحان ہے،وہ آئین کی اہمیت کو مجروح کر رہا ہے،حالانکہ آئین ایک میثاقِ ملی ہے،چھبیسویں ترمیم میں کم از کم ایک ماہ اور ایک ہفتے تک مشاورت ہوتی رہی،بات چیت چلتی رہی اور مفاہمت کے ساتھ اسے اسمبلی میں پیش کیا گیا لیکن ستائیسویں ترمیم میں جبراً دو تہائی اکثریت بنائی گئی اور اسی طاقت کے زور پر اسے پاس کروایا گیا، جس کے نتیجے میں یہ آئین متنازع بن جائے گا،کیونکہ عوام اسے تسلیم نہیں کریں گے،پھر انہوں نے جو قانون سازی کی ہے،مثلاً اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی،گھریلو تشدد اور جنس کی تبدیلی جیسے معاملات،یہ سب قرآن و سنت کے خلاف ہیں،قانون سازی کے دوران جو نوٹس دیے گئے،ان میں اقوامِ متحدہ کے منشور اور ان کے اغراض و مقاصد کی پیروی واضح نظر آتی ہے،ہم نے تو آئین کا حلف اٹھایا ہے اور اس آئین میں قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کا حلف شامل ہے،ایسی غیر اسلامی قانون سازی ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں،اسی لیے ہم نے بائیس دسمبر کو کراچی میں تمام دینی جماعتوں،مختلف مکاتبِ فکر اور مدارس کی ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی ہے،جس میں اس حوالے سے ایک حتمی اور متفقہ رائے قائم کی جائے گی۔۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آج ایک فیصلہ دیا ہے،جو زنا بالجبر کے کیس سے متعلق تھا،بیس سال کی سزا کو کم کر کے پانچ سال کر دیا گیا اور اسے زنا بالجبر کے بجائے زنا بالرضا قرار دیا گیا،یہ فرق مشرف دور میں متعارف کروایا گیا تھا،جو قرآن و سنت کی تعلیمات کے منافی ہے،آج مسئلہ یہ ہے کہ اگر زنا کا معاملہ ہو تو سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور اگر جائز نکاح کا معاملہ ہو تو اس میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں،یہ خود اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تصور کی نفی ہے،اول،ان کے پاس اصل مینڈیٹ ہی موجود نہیں یہ جعلی مینڈیٹ کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں،دوم،جعلی مینڈیٹ کے باوجود بھی حکومت صرف مسلم لیگ (ن) کی ہے جبکہ پیپلز پارٹی محض سہارا بنی ہوئی ہے،یعنی یہ جعلی اکثریت نہیں بلکہ جعلی اقلیت کی حکومت ہے،سوم،جب آئین کے خلاف قانون سازی کی جائے گی تو اس کا مطلب آئین سے بغاوت ہو گا،جس کے بعد ان کا مینڈیٹ خود بخود ختم ہو جاتا ہے،اسی لیے ہم باہمی مشاورت سے ایک متفقہ موقف سامنے لانا چاہتے ہیں۔
افغان پالیسی اور دہشت گردی کے معاملے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بد قسمتی سے پاکستان کی پالیسیاں گزشتہ 78 برس میں کبھی بھی درست سمت میں نہیں رہیں،جس کے باعث ملک کو مسلسل عدم استحکام،بدامنی اور دہشت گردی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست طاقت کے بجائے عقل،مشاورت اور عوامی رائے کو بنیاد بنا کر فیصلے کرے ورنہ بحران مزید گہرے ہوتے چلے جائیں گے۔