اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال،مقامی آبادیوں کو مسلح گروہوں کے مقابل کھڑا کرنے کی حکمت عملی اور سیاسی اختلافات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی پالیسی پر اختلاف کو دلیل کے ساتھ زیرِ بحث لایا جانا چاہیے،کردار کشی نہیں ہونی چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ عوامی سطح پر لشکر سازی جیسے اقدامات کے اثرات طویل المدتی سماجی اور سیاسی مسائل کو جنم دے سکتے ہیں جبکہ انہوں نے کہا کہ انہیں سیاسی طور پر ”بند گلی“ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں امن و امان،مقامی آبادیوں کو مسلح گروہوں کے مقابل کھڑا کرنے کی حکمت عملی اور سیاسی اختلافات پر تفصیلی موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل کا حل مکالمے اور دلیل میں ہے جبکہ کردار کشی اور الزام تراشی سے فاصلے مزید بڑھتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا کے ایک رکن صوبائی اسمبلی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی علاقے میں مقامی لوگوں کو لشکر بنانے اور دہشت گردوں کے مقابل کھڑا ہونے کا کہا جاتا ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان علاقوں کے عوام کو بعد میں کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیرستان،بنوں،لکی مروت،ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے علاقوں میں بھی مقامی آبادی دہشت گردی کے مسائل کا سامنا کرتی رہی ہے تاہم جب عام لوگ مسلح گروہوں کے مقابل آتے ہیں تو بعد کے حالات میں بعض اوقات انہی برادریوں کو انہی عناصر کے ساتھ جرگوں اور مذاکرات پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے ماضی کے مشرقی پاکستان کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی سطح پر بننے والے مسلح گروہوں کے اثرات طویل عرصے تک معاشرے میں رہتے ہیں،ریاستی پالیسیوں میں مقامی آبادی کے مستقبل اور سماجی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی ادارے یا فرد کے خلاف بات کرنا نہیں بلکہ کسی بھی حکمت عملی اور نظریے پر دلیل کے ساتھ گفتگو کرنا ہے،اختلاف رائے کو ذاتی حملوں اور کردار کشی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے بلکہ مسائل پر سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا کہ وہ راستے بند کرنے کے قائل نہیں تاہم ان کے بقول انہیں سیاسی طور پر دباو کا سامنا ہے اور انہیں دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بھی ان کی جدوجہد دفاعی نوعیت کی ہے۔مولانا فضل الرحمان نے اپنی جماعت اور اپنی ذات پر لگنے والے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حب الوطنی،جماعت کی قربانیوں اور سیاسی کردار پر سوالات اٹھانا مناسب نہیں۔انہوں نے کہا کہ اعتماد کا رشتہ دو طرفہ ہونا چاہیے جبکہ ان کے بقول ایک طرف تعاون کی توقع کی جاتی ہے اور دوسری طرف شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے۔انہوں نے مدارس کی رجسٹریشن اور اکاونٹس سے متعلق معاملات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مسائل بھی اعتماد کے ماحول کو متاثر کرتے ہیں،جمعیت علمائے اسلام ملکی سیاست میں اپنے موقف کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور مشکل حالات کے باوجود سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ عوام کی بڑی تعداد ان کے موقف کی حمایت کر رہی ہے اور انہیں حوصلہ دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی سیاست دلیل، مکالمے اور آئینی جدوجہد کے اصولوں پر قائم ہے۔