لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)لاہور پولیس کے ایک اہم تربیتی ادارے چوہنگ ٹریننگ کالج میں سامنے آنے والے مبینہ مالی سکینڈل نے محکمہ پولیس میں کھلبلی مچا دی ہے، جہاں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں اور خرد برد کے انکشافات کے بعد اعلیٰ سطح پر فوری کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔آئی جی پنجاب کی جانب سے آڈٹ کے حکم نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے جبکہ ابتدائی تحقیقات میں مالی معاملات کے متعدد پہلو سوالیہ نشان بن کر سامنے آ رہے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور میں واقع چوہنگ پولیس ٹریننگ کالج میں 40 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور مبینہ خرد برد کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے محکمہ پولیس کے اندرونی مالی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق سابق کمانڈنٹ کے دورِ انتظام میں مختلف مدات میں جاری کیے گئے فنڈز کے استعمال میں شدید بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں جبکہ ٹریننگ اخراجات اور دیگر سرکاری مدات کے کروڑوں روپے مبینہ طور پر نجی اکاونٹس میں منتقل کیے جانے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔اس صورتحال کے پیش نظر آئی جی پنجاب نے فوری طور پر سپیشل آڈٹ کا حکم دیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی ہے،جس کی سربراہی ایڈیشنل آئی جی پٹرولنگ پولیس کو سونپی گئی ہے۔یہ کمیٹی چوہنگ ٹریننگ کالج کے مالی معاملات کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ کمانڈنٹ کی درخواست اور آئی جی پنجاب کو ارسال کیے گئے خط کے بعد اس آڈٹ کا آغاز کیا گیا،جس کا مقصد ادارے میں پائی جانے والی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی مکمل چھان بین کرنا ہے۔آئی جی پنجاب نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ آڈٹ کے عمل کو جلد مکمل کر کے جامع رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے اور قانونی کارروائی کی جا سکے۔
دوسری جانب سابق کمانڈنٹ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ چوہنگ ٹریننگ کالج میں کسی قسم کی کرپشن نہیں ہوئی تاہم ان کے مطابق گزشتہ تین سال کا باقاعدہ آڈٹ نہیں کیا گیا تھا، جس کے باعث اب اندرونی آڈٹ کا عمل جاری ہے۔ادارے میں سامنے آنے والے اس مالی سکینڈل نے نہ صرف محکمہ پولیس بلکہ سرکاری اداروں میں مالی شفافیت کے نظام پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں جبکہ تحقیقات کے نتائج کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔