اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کو مزید تیز کر دیا،جہاں انہوں نے ترقیاتی منصوبوں،فلاحی اقدامات اور سیاسی موقف پر تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ صرف وعدے کرنے نہیں بلکہ پنجاب میں دو سالہ کارکردگی عوام کے سامنے رکھنے آئی ہیں اور اگر آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کو موقع ملا تو خطے کی تقدیر بدل دی جائے گی۔
ایگزو نیوز کے مطابق مریم نواز نے کہا کہ کشمیر میرا ہے،کشمیر میرا خاندان اور میرا گھر ہے،میں آج یہاں مہمان بن کر نہیں آئی،اپنے گھر آئی ہوں،کشمیر میرا ہے،یہ وادیاں میری ہیں،یہ لوگ میرا خاندان ہیں،میں خون سے بھی کشمیری ہوں،دل سے بھی کشمیری ہوں،نسلوں سے بھی کشمیری ہوں اور روح سے بھی کشمیری ہوں، کشمیر کی بیٹی آج اپنے آبائی شہر میں اپنے لوگوں کے درمیان موجود ہے۔انہوں نے اپنے قائد نواز شریف کے طرز سیاست کو دہراتے ہوئے کہا کہ جو وعدہ کریں گی،اسے ہر صورت پورا کریں گی۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن عوام کے سامنے خالی دعوے نہیں بلکہ عملی کارکردگی کا ریکارڈ لے کر آئی ہے۔انہوں نے پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے ہر حصے میں ترقی واضح نظر آتی ہے جبکہ جہاں مسلم لیگ ن کی حکومت نہیں وہاں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔انہوں نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مختلف علاقوں کا موازنہ کر کے خود فیصلہ کریں کہ کس جماعت کو ووٹ دینا چاہیے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے آزاد کشمیر کے لیے متعدد فلاحی منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 10 گرین الیکٹرک بسیں بطور تحفہ دی جا رہی ہیں جبکہ 15 موبائل ہسپتال عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کریں گے،اس کے علاوہ مفت تعلیم،معذور افراد کے لیے ہمت کارڈ،غریب خواتین کے لیے مفت راشن اور دیگر سماجی تحفظ کے پروگرام بھی متعارف کرانے کا عندیہ دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ہر چاہے کوئی کینسر کا مریض ھے،دل کا مریض ھے یا شوگر کا مریض ھے سب کو دوائیاں انکے دروازے پر پہنچائی جا رہی ہیں،میں چاہتی ہوں کشمیر میں بھی ایسا ہی نظام ہونا چاہیے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی مسائل 24 گھنٹوں میں حل کیے جا رہے ہیں۔”دھی رانی پروگرام“ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے تحت ہزاروں مستحق بچیوں کی شادیاں کروائی جا رہی ہیں،جو حکومت کے عوامی فلاح کے عزم کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سڑکوں، صفائی،ٹرانسپورٹ اور تعلیم میں نظر آنے والی ترقی مسلم لیگ ن کی خدمت کا عملی ثبوت ہے،پنجاب حکومت کی بسیں اے سی والی ہیں،لوگ جا کر اے سی والی بس میں سو جاتے ہیں انہیں جگا کر اٹھانا پڑتا ہے کہ بھائی اٹھ جاؤ تمہارا سٹاپ آ گیا ہے۔
سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ الیکشن کا موسم ہے،ہر جماعت آکر یہاں دعوے بھی کر رہی ہے،گلے شکوے بھی کر رہی ہے،کچھ لوگ یہاں آکر چند دن سے تقریریں کر رہے ہیں،گلے کر رہے ہیں، شکایتں کر رہے ہیں،شکوے کر رہے ہیں،الزام لگا رہے ہیں تو میں بہت پیار محبت سے ان کو یہ یاد کرانا چاہتی ہوں کہ آپ کس پر الزام لگا رہے ہیں؟انہوں نے کہا کہ یہاں پرحکومت آپ کی ہے،جو صرف وعدے کرتے ہیں،وہ گھر جا کر وعدے بھول بھی جاتے ہیں،میں وعدوں کے بجائے اپنی دو سالہ حکومتی کارکردگی لے کر آئی ہوں،کشمیر کے ہر گھر تک میرا پیغام ہے کہ اگر آپ نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا تو نواز شریف اور مریم نواز دونوں آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ انشاء اللہ آزاد جموں و کشمیر کی قسمت بدل جائے گی،جن لوگوں نے آپ کے ہاتھوں میں ڈنڈھے تھمائے ہیں،وہ آپ کے دوست نہیں ہو سکتے،مریم نواز اور نواز شریف آپ کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ اور ڈگریاں دیکھنا چاہتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جب بھارت نے کشمیر کا سٹیٹس بدلا تو میں آپکے پاس آنا چاہتی تھی،یہاں جلسہ رکھا لیکن جب میں اپنے والد سے ملنے کوٹ لکھپت جیل گئی تو انہوں نے مجھے والد کے سامنے گرفتار کر لیا۔انہوں نے کہا کہ میں اور نواز شریف صاحب ایک ہی گاڑی میں مری سے مظفر آباد آ رہے تھے تو جہاں پنجاب کی حدود ختم ہوئی،وہاں سے سڑک اور صفائی بھی ختم ہو گئی،میرے بھائیو فرق کو سمجھو،فرق ہے نواز شریف،فرق ہے مسلم لیگ ن،جن علاقوں میں ان جماعتوں کی حکومت ہے وہاں کی حالت خود ان کی کارکردگی کا ثبوت ہے،اس لیے عوام کو حقیقت پسندانہ فیصلہ کرنا چاہیے۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ ووٹ ڈالتے وقت سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اور ترقی،خوشحالی اور استحکام کے لیے مسلم لیگ ن کا ساتھ دیں۔ یہ جلسہ آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات کے حوالے سے سیاسی سرگرمیوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔