لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہاہے کہ پنجاب کے عوام کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دوں گی، میں اپنے عوام کے حقوق کی حفاظت کروں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مریم نواز سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرنے والے پہلے اپنے رویے پر غور کریں، سیلاب کے دوران پنجاب کا مذاق اڑانے والے ترجمان معافی مانگیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور میں الیکٹرک بس منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ میں نے نواز شریف اور شہباز شریف کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کو لاہور سے نکل کر پورے پنجاب تک پھیلایا، آج پورے پنجاب میں گرین بسیں رواں دواں ہیں، لاہور میں الیکٹرک بسیں عوام کے لیے تحفہ ہیں، اور مستقبل میں مزید الیکٹرک بسیں فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے چپے چپے میں ترقی کا سہرا مسلم لیگ ن کے سر ہے، یہی وجہ ہے کہ دوسرے صوبوں سے آنے والے لوگ لاہور کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اپنا وزیراعلی ہمیں دے دیں۔مریم نواز نے کہا کہ ان کے مشن میں صرف بڑے شہروں ہی نہیں بلکہ دیہات کی ترقی بھی شامل ہے،گاوں کی گلیاں پکی ہوں گی،پارکس بنیں گے،ہر گاوں اور ہر شہر میں سڑکیں تعمیر کی جائیں گی، پنجاب کے 37 اضلاع میں 90 ہزار گھر زیر تعمیر ہیں اور نومبر کے آغاز تک ایک لاکھ گھر مکمل کر لیے جائیں گے،آئندہ مزید چار سے پانچ لاکھ افراد کو بھی گھر دیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے بڑے اقدامات کیے جا رہے ہیں، گرین بس سروس خواتین، طلبہ، بزرگوں اور معذور افراد کے لیے مفت ہے جبکہ باقی عوام صرف 20 روپے کرایہ ادا کریں گے،عوام کی سہولت کے لیے بسوں میں وائی فائی،چارجنگ پوائنٹس اور معذور افراد کے لیے خصوصی نشستیں رکھی گئی ہیں۔مریم نواز نے صحت اور تعلیم کے منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ لاہور میں دنیا کا سب سے بڑا کینسر ہسپتال بنایا جا رہا ہے جبکہ پنجاب کے مختلف شہروں میں امراض قلب کے ہسپتال بھی قائم کیے جا رہے ہیں،نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ کے قیام کے بعد عوام کو ہر بیماری کا علاج اپنے ہی شہر میں دستیاب ہو گا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ صوبے کو محفوظ بنانے کے لیے بھی بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں،سموگ کے خاتمے کے لیے لاہور کی سڑکوں پر سموگ کنٹرول گنز کام کر رہی ہیں، مزید برآں، 20 لاکھ خاندانوں کو راشن کارڈ، معذور افراد کو ہمت کارڈ اور اقلیتی برادری کو مینارٹی کارڈ فراہم کیے جا رہے ہیں۔سیلابی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور کلاوڈ بلاسٹ کے دوران پنجاب میں ہر جان کو بچانے کی حتی الامکان کوشش کی گئی،پونے دو سو افراد کو سانپوں نے کاٹا مگر ہم نے تمام جانیں بچالیں ہماری کابینہ کے ارکان چودہ چودہ دن گھر نہیں گئے،خیبرپختونخوا میں 500 اموات ہوئیں تو انہوں نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کو فون کرکے مدد کی پیشکش کی۔
انہوں نے سیاسی مخالفین کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پنجاب پر تنقید کرنے والے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں،صدر آصف زرداری محترم ہیں،بلاول میرا بھائی ہے، مگر جب پنجاب پر تباہی آئی تو انہوں نے باہر کھڑے ہوکر پریس کانفرنس کے ذریعے مذاق بنایا،مجھے کہا گیا کہ عالمی امداد کیوں نہیں مانگتی؟مگر میں نے دوٹوک جواب دیا کہ عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کرنا ہو تو ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں،کسانوں کے حق کو سیاست کی نذر کیا گیا لیکن پنجاب حکومت نے اپنے وسائل سے نہریں نکالیں اور عوام کے ساتھ کھڑے رہے۔مریم نواز نے کہا کہ پنجاب پر کوئی بھی بات ہوگی تو جواب ضرور دیا جائے گا،میں 24 گھنٹے عوام کی خدمت میں مصروف رہتی ہوں،جواب دینے کا وقت نہیں ہوتا مگر جب میرے صوبے کی بات آئے گی تو بھرپور جواب دوں گی،پنجاب کے عوام پر تنقید کرنے والے آئندہ سو بار سوچیں۔