Home » مریم نواز کا چین میں بڑا معاشی و ٹیکنالوجی پلان،پنجاب میں چینی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی منتقلی کی پیشکش

مریم نواز کا چین میں بڑا معاشی و ٹیکنالوجی پلان،پنجاب میں چینی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی منتقلی کی پیشکش

by ahmedportugal
24 views
A+A-
Reset

گوئی یانگ(ایگزو نیوز ڈیسک)مریم نواز شریف نے چین کے صوبے گوئی ژو کے شہر گوئی یانگ میں منعقدہ انٹرنیشنل بگ ڈیٹا ایکسپو کے موقع پر چینی حکام اور وفد سے ملاقات میں پنجاب اور چین کے درمیان معاشی،صنعتی اور ٹیکنالوجی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی پیشکش کر دی۔
ایگزو نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گوئی ژو کی حکمران جماعت کے سیکریٹری ہی زونگ یو اور ان کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے ٹیکنالوجی ٹرانسفر،مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لیے مشترکہ بزنس و انویسٹمنٹ کانفرنس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔انہوں نے ڈیجیٹل تعاون،مصنوعی ذہانت اور سمارٹ ایگریکلچر کے شعبوں میں مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی بھی پیشکش کی۔مریم نواز نے کہا کہ پنجاب بیرونی سرمایہ کاری کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور چین کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا چاہتا ہے،پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی کو محض روایتی سفارتی تعلقات تک محدود رکھنے کے بجائے ایسے عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جن سے سرمایہ کاری،روزگار اور عوام کو براہ راست معاشی فوائد حاصل ہوں۔

وزیراعلیٰ نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے طبی تشخیص کے شعبے میں بھی چین کے ساتھ تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال اور سرمایہ کاری پر کام جاری ہے جبکہ صوبے میں ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کے لیے باقاعدہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس آفس بھی قائم کیا گیا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ پنجاب چین کی جدید ٹیکنالوجی،خصوصاً طبی خدمات اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت سے سیکھنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔انہوں نے ایک ہزار بستروں پر مشتمل کینسر ہسپتال سمیت صحت کے شعبے میں جاری منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں اے آئی پر مبنی طبی تشخیص کے لیے بھی تعاون کے امکانات موجود ہیں۔انہوں نے گوئی ژو کے ترقیاتی ماڈل کو قابلِ تقلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صوبہ محض ترقی نہیں کر رہا بلکہ ٹیکنالوجی،صنعت،انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ایک وسیع تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ وہ گوئی ژو کے تجربات خصوصاً صنعت،ڈیجیٹل انفراسٹرکچر،ذہین کمپیوٹنگ اور دیہی ترقی کے ماڈلز کا جائزہ لے کر پنجاب میں قابلِ عمل منصوبے متعارف کرانا چاہتی ہیں۔وزیر اعلیٰ کے مطابق پنجاب اور گوئی ژو کے درمیان آبادی،انسانی وسائل،زراعت اور معاشی سرگرمیوں کے اعتبار سے کئی مماثلتیں موجود ہیں،پنجاب نہ صرف پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے بلکہ ملک کی مجموعی زرعی پیداوار میں بھی اس کا نمایاں حصہ ہے جبکہ نوجوان آبادی،وسیع صارف مارکیٹ اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیت پنجاب کو سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بناتی ہے۔

مریم نواز نے پنجاب میں انفراسٹرکچر اور ماحول دوست سفری نظام کے حوالے سے بھی چینی تعاون کو سراہا۔ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ہزاروں سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے ساتھ الیکٹرک موبیلٹی انفراسٹرکچر کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے اور چین سے تیار کردہ الیکٹرک بسیں شہری ٹرانسپورٹ کے نظام کا حصہ بن چکی ہیں۔انہوں نے ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کے خاتمے کے لیے چین کے تجربات سے استفادے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ماحولیاتی تحفظ،شجرکاری اور جنگلات کے رقبے میں اضافے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں،صاف ستھرا ماحول اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔مریم نواز نے کہا کہ پنجاب اور گوئی ژو کے درمیان تعاون کو روایتی معاشی روابط سے آگے بڑھا کر ویلیو ایڈڈ مصنوعات،جدید ٹیکنالوجی،مینوفیکچرنگ اور نجی شعبے کی شراکت داری تک وسعت دی جا سکتی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مجوزہ مشترکہ ورکنگ گروپ آئندہ 12 ماہ کے دوران باقاعدہ منصوبوں اور عملی شراکت داری کے لیے جامع فریم ورک تیار کرسکتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے گوئی ژو کے وفد کو لاہور کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی اور کہا کہ چینی وفد پنجاب کے متعلقہ محکموں،جامعات،چیمبر آف کامرس اور ممکنہ کاروباری شراکت داروں سے ملاقات کرے تو وہ اسے خوش آئند پیش رفت سمجھیں گی۔مریم نواز نے کہا کہ گوئی ژو کے پاس ٹیکنالوجی،تجربے اور انسانی فلاح کے لیے ترقی کا ایک موثر ماڈل موجود ہے جبکہ پنجاب کے پاس بڑی نوجوان آبادی،وسیع مارکیٹ،انسانی وسائل اور شہری ترقی کا عزم ہے،اس لیے دونوں خطوں کی صلاحیتیں ایک دوسرے کے لیے موزوں ہیں۔انہوں نے پاکستان اور چین کے تعلقات کو محض دو حکومتوں کے درمیان تعلق قرار دینے کے بجائے عوام سے عوام اور دل سے دل کا رشتہ قرار دیا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی دوستی کو پاکستانی قیادت کی کئی نسلوں نے مضبوط کیا ہے اور ان کے والد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف نے پاک چین تعلقات اور اقتصادی شراکت داری کو ہمیشہ خصوصی اہمیت دی ہے۔وزیراعلیٰ نے چینی صدر شی جن پنگ کے ترقیاتی وژن،مشترکہ خوشحالی،سلامتی،استحکام اور انسانی فلاح کے تصورات کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین کے تجربات سے سیکھ کر پنجاب میں بھی ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مقیم چینی شہریوں کی سلامتی،تحفظ اور سہولت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔مریم نواز نے امید ظاہر کی کہ ان کا موجودہ دورہ پنجاب اور گوئی ژو کے درمیان عملی تعاون اور باہمی شراکت داری کے ایک نئے دور کا نقط آغاز ثابت ہو گا۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے اپنی صوبائی ٹیم کے مختلف ارکان اور ان کی ذمہ داریوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پنجاب حکومت کی ترجیحات میں ماحولیات،تعلیم،زراعت،مصنوعی ذہانت اور جدید طرز حکمرانی جیسے شعبوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے،چین کے ساتھ تعاون کے ذریعے ان شعبوں میں پنجاب کی استعداد اور کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز