Home » افریقی ملک مالی میں ریاستی نظام لرز اٹھا،بڑے شہروں پر القاعدہ سے منسلک گروہوں کا قبضہ،وزیر دفاع سمیت اہم شخصیات ہلاک

افریقی ملک مالی میں ریاستی نظام لرز اٹھا،بڑے شہروں پر القاعدہ سے منسلک گروہوں کا قبضہ،وزیر دفاع سمیت اہم شخصیات ہلاک

by ahmedportugal
12 views
A+A-
Reset

بماکو(ایگزو نیوز ڈیسک)افریقی ملک مالی میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی سنگین رخ اختیار کر گئی ہے،جہاں عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے منسلک گروپ جماعت نصرت الاسلام والمسلمین(جے این آئی ایم)اور اس کی اتحادی ازواد لبریشن فرنٹ نے ریاستی فورسز اور ان کے روسی اتحادیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر منظم حملہ کرتے ہوئے ملک کے متعدد اہم شہروں پر جزوی یا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔مختلف شہروں میں ہونے والے منظم دہشت گرد حملوں نے ریاستی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے،ان حملوں میں ملک کے وزیر دفاع سادیو کامارا سمیت متعدد اہم شخصیات کی ہلاکت نے صورتحال کو مزید غیر مستحکم بنا دیا ہے،جسے ماہرین بغاوت جیسے حالات سے تعبیر کر رہے ہیں۔

ایگزو نیوز کے مطابق افریقی ملک مالی میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے جہاں شدت پسندوں کے ایک منظم اور وسیع حملے میں ملک کے وزیر دفاع سادیو کامارا ہلاک ہو گئے۔یہ اب تک کی سب سے بڑی مربوط کارروائی ہے جو 2012 کے بعد سامنے آئی ہے،جب انہی گروہوں نے شمالی مالی کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد ازاں فرانس کی قیادت میں فوجی مداخلت کی گئی تھی۔ہفتے کی صبح ملک بھر میں بیک وقت شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جن کا دائرہ دارالحکومت بماکو کے نواحی علاقے سے لے کر انتہائی شمال میں واقع کیدال تک پھیلا ہوا تھا۔حملہ آوروں نے روایتی زمینی کارروائیوں کے ساتھ خودکش گاڑیوں اور ڈرون حملوں کا بھی استعمال کیا،جس سے کارروائی کی شدت میں اضافہ ہوا۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک پہلے ہی سیاسی عدم استحکام اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کا سامنا کر رہا ہے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق شدت پسندوں نے ایک ہی وقت میں متعدد شہروں بشمول کاتی،بماکو،گاو اور کیدال میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا،جس کے نتیجے میں شدید جھڑپیں اور فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔انہی حملوں کے دوران وزیر دفاع سادیو کامارا کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں،جس کی بعد میں مختلف ذرائع نے تصدیق کی۔اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے ایک روز قبل دارالحکومت بماکو کے قریب واقع فوجی شہر کیٹی میں سادیو کامارا کی رہائش گاہ پر بھی حملہ کیا تھا،جس کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی۔وزیر داخلہ کی ہلاکت کو ملک کی فوجی قیادت کے لیے ایک بڑا اور غیر متوقع دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔سادیو کامارا کو مالی کی موجودہ فوجی حکومت میں ایک اہم اور بااثر شخصیت سمجھا جاتا تھا،جو 2020 اور 2021 کی فوجی بغاوتوں کے بعد اقتدار میں آئی تھی۔انہیں مستقبل میں ممکنہ قیادت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا تھا،جس کی وجہ سے ان کی ہلاکت نے سیاسی اور عسکری حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

حملہ آوروں نے صرف کاتی تک محدود رہنے کے بجائے بماکو، گاو،کیدال اور سیوارے سمیت مختلف شہروں میں بھی کارروائیاں کیں،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک مربوط اور وسیع پیمانے کا حملہ تھا۔کاتی میں فوجی اور حکومتی تنصیبات کے قریب حملے کیے گئے جبکہ بماکو ایئرپورٹ اور دیگر حساس مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔دارالحکومت بماکو کے اندر بھی مختلف فوجی اڈوں اور چیک پوسٹوں پر حملے کیے گئے جبکہ بعض اہم شاہراہوں پر ناکہ بندی کی اطلاعات ہیں۔وسطی علاقوں موپتی اور سیوارے میں بھی جھڑپیں جاری ہیں اور کئی علاقے اب بھی متنازع کنٹرول میں بتائے جا رہے ہیں۔امریکی سفارتخانے کے مطابق دارالحکومت کے قریب کئی دھماکے اور حملے ریکارڈ کیے گئے۔بعض علاقوں میں اب بھی وقفے وقفے سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں،جس سے صورتحال کی سنگینی برقرار ہے۔سیکیورٹی ماہرین کے مطابق مالی میں حالیہ پیش رفت نہ صرف ملک کی اندرونی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج ہے بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام کے خدشات کو بھی بڑھا رہی ہے جبکہ حکومتی سطح پر ہنگامی اقدامات کیے جانے کی توقع ہے،اس وسیع پیمانے کی کارروائی کے بعد مالی میں ریاستی کنٹرول اور سیکیورٹی صورتحال شدید دباؤ کا شکار ہے اور آئندہ دنوں میں صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز